کام کی قیمت
Al-Risala, April 2018, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر آپ ایک بائیسکل خریدنے کے لیے بازار میں جائیں، تو اس کی ایک قیمت ہے۔ ضروری قیمت ادا کیے بغیر وہ بائیسکل آپ کو نہیں ملے گی۔ اسی طرح موٹر کار کی ایک قیمت ہے۔ آپ موٹر کار خریدنا چاہتے ہوں۔ لیکن آپ کی جیب میں اس کی ضروری قیمت نہ ہو، تو کوئی بازار آپ کو موٹر کار دینے والا نہیں۔
اسی طرح مشن کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ اگر آپ ایک مشن لے کر اٹھیں تو صرف بڑے بڑے الفاظ بولنے سے آپ مین آف مشن نہیں بن سکتے۔ مشن ایک بے حد سنجیدہ منصوبہ ہے۔ صرف ایک قیمت ہوتی ہے۔ اور وہ ہے، مشن کو ترجیح (priority) کی سطح پر اختیار کرنا۔ ایک مشن شروع کریں۔ لیکن آپ نے اس کو اپنی واحد ترجیح نہ بنایا ہو، بلکہ عملاً آپ اولاد کو اپنی ترجیح بنائے ہوئے ہوں تو آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ مشن کے لیے کھڑے نہ ہوں۔ ساگ سبزی کی دکان کھولنا، اس سے بہتر ہے کہ ایسا آدمی مین آف مشن بننے کا دعویٰ کرے۔ یونیورسٹی کے ایک استاد نے کہا کہ ہم لوگ حیوان کاسب (earning animal) ہیں ۔ ہم لوگوں کا کنسرن تو صرف پرسنل انٹرسٹ ہوتا ہے، لیکن ہم لوگ غلط طور پر اپنے آپ کو علم کا کیس یہ منافقت ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کچھ اور بنے، لیکن وہ منافق نہ بنے۔ لوگ عام طور پر حرام و حلال کو جانتے ہیں۔ لیکن اس کے سوا ایک اور چیز ہے، جس کو نفسیات کی اصطلاح میں کمزور شخصیت (weak personality) کہا جاتا ہے، اس کو کوئی نہیں جانتا۔ کمزور شخصیت اور منافق شخصیت میں صرف نام کے اعتبار سے فرق ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اللہ کی نظر میں کمزور شخصیت والا انسان بھی وہی درجہ رکھتا ہے، جو منافق انسان کا درجہ ہوتا ہے۔ انسان وہ ہے جس کے قول اور عمل میں کوئی تضاد نہ ہو۔ جو قابل پیشین گوئی کردار (predictable character ) کا حامل انسان ہو۔