Al-Risala · April 2018

مس ایڈونچرزم

Al-Risala, April 2018, pp. 42–43

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان فطری طور پر با ہمت (adventurist) پیدا ہوا ہے۔ اگر آدمی ہمت والا نہ ہو تو وہ کوئی اقدام نہیں کرے گا، اور نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ کوئی کام اپنی زندگی میں نہیں کر پائے گا۔ (nature) آدمی کو ابھارتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کسی کام میں لگائے۔ وہ کچھ کرنے والا بنے۔ اپنی صلاحیتوں کو مفید کام میں لگائے۔

اس جذبہ کی بنا پر آدمی فطری طور پر ایڈونچرسٹ (adventurist) بن جاتا ہے۔ کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ ایڈونچرزم بہت آسانی سے مس ایڈونچر زم بن جاتی ہے، اور پھر آدمی کے حصہ میں فائدہ کے بجائے نقصان آتا ہے۔ ایڈونچر اور مس ایڈ وینچر کے درمیان ایک باریک لائن (thin line) ہے، جو ایک دوسرے کو جدا کرتی ہے۔ وہ یہ کہ ایڈونچرزم ہمیشہ ویل کیکولیٹڈ (well-calculated) ہونا چاہیے، نہ کہ محض جوش کے تحت کیا ہوا اقدام عمل۔ جوش کے تحت کیا ہوا اقدام ہمیشہ ناکام ہوتا ہے، اور ویل کیکولیٹڈ (well-calculated) اقدام ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔

ضروری ہے کہ آدمی کے اندر جوش کے ساتھ عقل بھی ہو۔ وہ اقدام کے جذبے کے تحت یہ بھی جانے کہ کیا چیز اس کے لیے قابل حصول ہے، اور کیا چیز اس کے لیے قابل حصول نہیں۔ اس کے بس کی ہے، اور کیا چیز عملاً اس کے بس سے باہر ہے۔ کسی بھی کام میں پیشگی طور پر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا چیز آدمی کے لیے ممکن العمل (possible) ہے، اور کیا چیز نہیں۔ کسی آدمی के لیے بہترین عقل مندی یہ ہے कि वह ऐसा काम करे, जो उस के बस का काम हो। جو کام اس के बस का ना हो, इस को करने से बेहतर है कि آدمی सिरे से काम ही ना करे। काम ना کرنے से जो चीज़ पेश आती है, वह صرف की है। लेकिन जोश के तहत कूद पड़ना, इस से ज्यादा गलत है, और वह है— ना काबिल तलाफी नुकसान।

سوال و جواب ایک سوال یہ ہے کہ آج کے اس پر فتن دور میں جبکہ مسلمان فرقوں میں بٹ گئے ہیں اور ہر فرقہ اپنے کو حق پر ہونے کا دعوی کرتا ہے ہمیں کس منہج پر چلنا چاہیے؟ (محمد عمر خالد) اس سوال کا جواب راقم الحروف کی کتاب تجدید دین میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں مختصر اس سوال کا جواب درج کیا جاتا ہے۔ فرقہ بندی کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب مبنی بر فارم انتہا پسندی دین، مثلاً نماز کا ایک فارم ہے۔ اسی کے ساتھ اس کی ایک اسپرٹ ہے۔ اسپرٹ ایک ہے، اور وہ ہمیشہ ایک رہے گی۔ یہ اسپرٹ تقویٰ اور خشوع ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: التقویٰ ہاہنا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2564)۔ یعنی تقویٰ دل میں ہے۔ اسی طرح قرآن میں آیا ہے: الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ (23:2)۔ عبادت میں اگر اسپرٹ پر زور دیا جائے تو کبھی فرقہ بندی پیش نہیں آئے گی۔ کیوں کہ اسپرٹ ایک ہے، وہ ہمیشہ ایک ہی رہے گی۔ اس کے برعکس، فارم میں تعدد ہے۔ یعنی روایتوں میں کسی عبادت کے کئی فارم بتائے گئے یہ تعدد سب کے سب جزئی امور میں ہیں۔ اس لیے فارم میں زور دینے سے ہمیشہ تعدد پیدا ہو جائے گا۔ اس بنا پر فارم کے معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس معاملے میں تنوع کو درست سمجھا مثلاً کوئی شخص نماز میں آمین بالسّر کا طریقہ اختیار کرے تب بھی درست، اور کوئی شخص نماز میں آمین بالجہر کا طریقہ اختیار کرے تب بھی درست۔

فرقہ بندی فارم پر زور دینے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ کوئی ایک فارم کو درست سمجھتا ہے، کوئی دوسرے فارم کو۔ اس طرح عبادت کے کئی طریقے بن جاتے ہیں۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ عبادت کے معاملے میں بنیادی فارم میں تو حد کا طریقہ اختیار کیا جائے، اور عبادت کے فروعی اجزاء میں تنوع کا طریقہ۔ مثلاً نماز کی رکعت میں تو حد، اور حالت قیام میں ہاتھ باندھنے میں تنوع۔

Printed page