Al-Risala · May 2018

آسان برائے ذکر

Al-Risala, May 2018, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ یعنی ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا، تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے قرآن کی اس آیت کو سمجھنے کے لیے اس کی تفسیر ایسے انداز میں کی جانی چاہیے، جو انتہائی حد تک عام فہم ہو، اس کا قدر مشترک یہ ہو کہ قرآن سے ہر انسان بہ آسانی نصیحت لے سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی تفسیر جو بھی کی جائے، اس کے اندر کمال درجے میں وضوح (clarity) پائی جاتی ہو۔ مثلاً قرآن کی اس آیت کو آپ پڑھیں، اور اس میں غور کریں: وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ (16:8)۔ یعنی اور اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تا کہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے بھی اور وہ ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے۔ قرآن کے تصور تیسیر کے مطابق آپ غور کریں تو اس میں آپ کو نصیحت کا یہ بالکل آسان پہلو ملے گا کہ خالق نے پہلے دور میں انسان کو فطرت کی سواریاں دیں، مثلاً گھوڑا، خچر اور گدھا۔ (nature) میں ایسی ٹکنالوجی رکھ دی، جس کو دریافت کر کے آدمی موٹر کار اور ہوائی جہاز جیسی مشینی سواریاں بنائے، اور اس کے ذریعہ اس کے لیے زیادہ تیز رفتار سفر ممکن ہو جائے۔ یہ تفسیر مبنی بر تیسیر کی ایک مثال ہے۔ یہ تفسیر ہر آدمی کے لیے قابل فہم ہے۔ اس تفسیر میں ہر عورت اور ہر مرد کے لیے شکر کا سامان ہے۔ جو شخص اس تفسیر کو لے کر سوچے گا، اس کے اندر ربانی شخصیت پرورش پائے گی۔ قرآن کی صداقت پر اس کا یقین بڑھے گا ۔ اس کے اندر تخلیقی طرز فکر (creative thinking) بیدار ہوگی۔ اللہ کے وجود کے بارے میں اس کا یقین بہت بڑھ جائے گا ــــ انھیں صفات کا نام ذکر (نصیحت) ہے۔ یہی وہ صفات ہیں، جو کسی انسان کے اندر ایمان کا وہ درخت اگاتی ہیں، جس کے بارے میں قرآن میں آیا ہے: أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ (14:24) جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔

Printed page