غصہ سے بچو
Al-Risala, January 2018, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک آدمی پیغمبر اسلام کے پاس آیا۔ اس نے کہا: أخبرني بكلمات أعيش بهن ولا تكثر قال: اجتنب الغضب، ثم أعاد عليه فقال: اجتنب الغضب (مسند احمد، حدیث یعنی مجھے ایسی بات بتائیے، جس میں میں جیوں، اور بات مختصر ہوتا کہ میں اس کو بھول نہ آپ نے کہا: غصہ سے بچو، اس نے اپنی بات کو دہرائی، آپ نے دوبارہ کہا: غصہ سے بچو۔ اس حدیث پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ غصہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ غصہ کوئی آدمی دوسرے کے خلاف کرتا ہے۔ لیکن غصہ کا نقصان آدمی کو خود بھگتنا پڑتا ہے۔ غصہ آدمی کی سوچ کو غلط رخ پر موڑ عام حالت میں آدمی مثبت انداز میں سوچتا ہے۔ وہ معتدل انداز میں رائے قائم کرتا ہے۔ لیکن غصہ آتے ہی اس کی سوچ غیر معتدل ہو جاتی ہے۔ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں سوچنے کے قابل
جو آدمی غصہ میں مبتلا ہو جائے، وہ جذبات کے تحت ایسے فیصلے کرتا ہے، جو جذبات سے خالی آدمی کبھی نہیں سوچے گا۔
غصہ کا سب سے زیادہ تباہ کن انجام یہ ہے کہ غصہ ہمیشہ دو طرفہ بن جاتا ہے۔ آپ غصہ ہو کر دوسرے شخص کو بھی غضبناک بنا دیتے ہیں۔ غصہ دوسرے شخص کو جوابی غصہ میں مبتلا کر دیتا ہے۔ طرح غصہ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے رد عمل (reaction) کا سبب بنتا ہے۔ آپ ایک رد عمل ظاہر کرتے ہیں، اس کے بعد دوسرا آدمی مشتعل ہو کر رد عمل کا طریقہ اختیار کر لیتا ہے۔ یہ عمل اور رد عمل بار بار ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ رد عمل ایک چین ری ایکشن (chain reaction) بن جاتا ہے۔ جب کوئی چیز چین ری ایکشن بن جائے تو پھر اس کا خاتمہ آخری ہلاکت سے پہلے نہیں ہوتا۔ اس لیے غصہ کے بعد آدمی کے لیے جو صحیح رویہ ہے، وہ صرف ایک ہے۔ وہ ہے غصہ کو یک طرفہ طور پر ختم کر دینا۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ یعنی جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔ غصہ کے نقصان سے بچنے کے لیے یک طرفہ صبر کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔