Al-Risala · May 2018

نبیوں کا ماڈل

Al-Risala, May 2018, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر زمانے میں اور ہر مقام پر اللہ کے پیغمبر انسان کی ہدایت کے لیے آئے۔ کے مطابق، ان نبیوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361) سے ان تمام پیغمبروں کا ماڈل بنیادی طور پر ایک تھا۔ پیغمبروں نے اس ربانی ماڈل کو اپنے اپنے حالات کے لحاظ سے اپنے زمانے میں اختیار کیا۔ اس سلسلے میں قرآن کی کچھ آیتوں کا ترجمہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:

یہ ہے ہماری دلیل جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلہ میں دی۔ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں۔ بے شک تمھارا رب حکیم اور علیم ہے۔ اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا کئے۔ ہر ایک کو ہم نے ہدایت دی اور نوح کو بھی ہم نے ہدایت دی اس سے پہلے۔ اس کی نسل میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیکوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی، ان میں سے ہر ایک صالح تھا۔ اسماعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی، اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے دنیا والوں پر فضیلت عطا اور ان کے باپ دادوں اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے بھی، اور ان کو ہم نے چن لیا اور ہم نے سیدھے راستہ کی طرف ان کی رہنمائی کی۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ اس سے سرفراز کرتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے۔ اور اگر وہ شرک کرتے تو ضائع ہو جاتا جو کچھ انھوں نے کیا یہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی ۔ پس اگر یہ مکہ والے اس کا انکار کر دیں تو ہم نے اس کے لئے ایسے لوگ مقرر کر دئے ہیں جو اس کے منکر نہیں ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو۔ کہہ دو، میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ یہ تو بس ایک نصیحت ہے دنیا والوں کے لئے۔

یہ ربانی ماڈل بنیادی طور پر دو اصولوں پر مشتمل تھا ؀ توحید کی پر امن دعوت، رُجز

(المدثر، 5-74) سے کامل پر ہیز۔ ہر پیغمبر نے بنیادی طور پر اسی ماڈل کی پیروی کی۔ کے اعتبار سے ہر ایک کا انطباق (application) مختلف تھا۔ ان کے درمیان ظاہری فرق کو نظر انداز کیا جائے تو ہر پیغمبر کا ماڈل اصولی طور پر ایک نظر آئے گا۔

رُجز (المدثر، 74:5) کا لفظی مطلب گندگی (dirt) ہے۔ رُجز کا لفظ یہاں مشن کی نسبت سے آیا ہے۔ اس اعتبار سے غور کیا جائے تو یہاں ترکِ رُجز کا مطلب یہ ہے کہ نزاعی طریقہ (confrontational method) سے پرہیز کرو اور اپنے کام کے سلسلے میں ہمیشہ غیر نزاعی طریقہ (non-confrontational method) اختیار کرو۔ رُجز کا یہ مفہوم ایک روایت پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے۔ ایک روایت میں آپ کے بارے میں بتایا گیا ہے: مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ، إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا (صحیح مسلم، حدیث یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو معاملے میں سے ایک کے انتخاب کا اختیار دیا گیا، جن میں سے ایک دوسرے سے آسان ہوتا تو آپ نے آسان طریقہ چنا۔ آسان طریقہ کیا ہے، اور مشکل طریقہ کیا ہے۔ آسان طریقہ وہ ہے جو مسئلے کو مسئلے تک محدود اس کے مقابلے میں مشکل طریقہ وہ جو اصل مسئلہ میں دوسرے مسئلے کا اضافہ کر دے۔ بات واضح ہے کہ توحید کا داعی اگر دعوت کے ساتھ ٹکراؤ کا طریقہ شامل کر لے تو یقیناً بات بڑھے گی۔ اب پسِ گفت و شنید کے ساتھ ٹکراؤ اور تشدد کی صورتیں شروع ہو جائیں گی۔ اس طرح پر امن مشن ڈی ریل (derail) ہو کر ایسے راستوں پر چل پڑے گا جہاں اصل مقصد گم ہو جائے گا، اور تعمیر کے بجائے تخریب کی صورت پیدا ہو جائے گی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے پیغمبروں کے حالات قرآن وحدیث سے معلوم ہوتے ہیں، اس سے اس اصول کی تصدیق ہوتی ہے۔

Printed page