دور قدیم ، دور جدید
Al-Risala, May 2018, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
دور قدیم اور دور جدید اصلًا یہ ہے کہ دور قدیم مبنی بر عقیدہ علم پر قائم تھا، اور دور جدید مبنی بر دریافت علم پر قائم ہے۔ سائنس اسی کا نام ہے کہ علوم فطرت کے مطالعے سے جو چیز دریافت ہو، اس کو مان لیا جائے، اور جو چیز فطرت کے مطالعے سے دریافت نہ ہو، اس کو انتظار کے خانے میں ڈال دیا گلیلیو کے زمانے میں جو نزاع تھی، وہ یہی تھی کہ ٹیلیسکوپ (telescope) کے مطالعے سے یہ دریافت ہوا تھا کہ زمین سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ یعنی ہیلیوسینٹرک تھیری (heliocentric theory)، نہ کہ جیو سینٹرک تھیری (geocentric theory)۔ مسیحی طبقہ اپنے روایتی عقیدہ کے مطابق اس کے خلاف ہو گیا۔ اس لیے دونوں کے درمیان متشددانہ نزاع قائم ہو گئی۔ اب مسیحی طبقہ نے سائنسی دریافت کو مان لیا ہے، اس لیے اب یہ نزاع بھی ختم ہو گئی۔
سائنس کا علم، نہ موافق مذہب علم ہے اور نہ مخالف مذہب علم۔ سائنسی علم دراصل موافق فطرت (pro-nature knowledge) کا نام ہے۔ سائنس سے نزاع کرنا، ایک غیر ضروری کام ہے۔ کیوں کہ سائنس کا موقف کسی نزاع سے متعین نہیں ہوگا، بلکہ صرف اس حقیقت سے متعین ہوگا کہ فطرت کے مطالعے سے کیا بات درست ثابت ہوئی ہے۔ اہل اسلام کے لیے اس معاملے میں یہ سبق ہے کہ وہ مسیحی گروہ کی غلطی کو نہ دہرائیں۔ سائنسی دریافتوں کو وہ مذہبی عقیدہ سے نہ جانچیں۔ بلکہ اس کی واقعیت کو فطرت کے دریافت شدہ قانون کی روشنی میں جانچ کر دیکھیں۔
اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ وہ مغربی سائنس اور مغربی کلچر میں فرق کریں۔ مبنی بر دریافت علم کا نام ہے۔ اس کے برعکس، مغربی کلچر مغربی سوسائٹی کا حصہ ہے۔ وہ ایک سماجی ظاہر ہ ہے، نہ کہ کوئی علمی طور پر دریافت شدہ حقیقت۔ سائنس کا تعلق حدیث کے مطابق، بصیرت زمانہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: علی العاقل أن يكون بصيراً بزمانه (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر (361)۔ یعنی مومن عاقل پر ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔