Al-Risala · May 2018

دعا کی حقیقت

Al-Risala, May 2018, pp. 20–22

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا اگر صالح دعا ہو تو وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ لیکن بڑی بڑی دعائیں ہمیشہ تاخیر کے ساتھ قبول ہوتی ہیں۔ اس کی ایک مثال حضرت ابراہیم کی دعا ہے۔ حضرت ابراہیم نے تعمیر کعبہ کے وقت ایک آخری پیغمبر کے ظہور کی دعا کی تھی (البقرۃ، 129:2)۔ یہ دعا قبول ہوئی۔ لیکن اس پیغمبر کا ظہور عملاً دعا کے تقریباً ڈھائی ہزار سال بعد پیش آیا۔ تاریخ کے بڑے بڑے واقعات ہمیشہ اسی طرح لمبی مدت کے بعد ظہور میں آتے ہیں۔ بڑی بڑی دعاؤں کے لیے پوری تاریخ کو پیچ کرنا پڑتا ہے۔ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، حالات کو اس کے مطابق بنانا پڑتا ہے۔ اس لیے قانون قدرت کے مطابق، کوئی بڑی دعا کبھی اس طرح قبول نہیں ہوتی کہ دعا کرنے والے نے دعا کیا۔ اس کے فوراً بعد اس کی قبولیت بھی سامنے آگئی۔

دعا کے بارے میں قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ یعنی اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے، پس ان کو چاہیے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر یقین کریں، تا کہ وہ ہدایت پائیں۔

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ خدا بندے کے قریب ہے۔ اور وہ بندے کی دعا کا جواب دیتا لیکن جواب کی صورت کیا ہوتی ہے، اس کا ذکر قرآن کی اس آیت میں موجود نہیں۔ دعوة الداع اذا دعان کے فوراً بعد جو الفاظ آئے ہیں، وہ یہ ہیں: فليستجيبو لى وليؤ منوا بي یعنی ان کو چاہیے کہ وہ میری بات مانیں اور مجھ پر یقین کریں، اسی میں ان کی

یہاں دعا کے بعد جواب دعا کا ذکر نہیں۔ یہ قرآن کا ایک خاص اسلوب ہے کہ اس میں کسی

بات کے ایک پہلو کا ذکر ایک مقام پر ہوتا ہے، اور اُس کے دوسرے پہلو کا ذکر دوسرے مقام پر۔ مثلاً قرآن میں قصہ آدم کے تحت یہ بتایا گیا ہے کہ آدم نے غلطی کرنے کے بعد جب توبہ کی، تو ان کی توبہ قبول ہوئی، اور دعا کے الفاظ بھی ان کو تلقین کیے گئے۔ مگر یہ دونوں بات ایک جگہ موجود نہیں۔ سورہ البقرہ آیت 37 میں توبہ کا ذکر ہے۔ لیکن جہاں تک الفاظ دعا کا تعلق ہے، وہ دوسرے مقام پر سورہ الاعراف آیت 23 میں بتائے گئے ہیں۔

یہی اسلوب قرآن کی مذکورہ آیت میں بھی اختیار کیا گیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جواب ریح (يوسف، 12:94) کی صورت میں ملتا ہے۔ ریح کے لفظی معنی خوشبو (fragrance) کے ہیں۔ یہاں ریح کا لفظ سادہ طور پر مہک کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اچھی خبر (good news) ہے۔ یہ حضرت یعقوب کو انسپریشن (inspiration) کی صورت میں آئی تھی۔ یعنی ان کو یہ انسپریشن آتا تھا کہ خدا ان کی دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا، بلکہ یوسف کو کسی اعلیٰ مقصد کے لیے استعمال کرے گا۔ یوسف کے بھائیوں نے یوسف کواندھے کنوئیں میں ڈال دیا تھا، لیکن اللہ نے ان کو مخصوص انتظام کے تحت مصر کے تخت پر پہنچا دیا۔ دعا کی یہ قبولیت ہر انسان کے لیے مقدر ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کی ایک شرط ہے۔ قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : إِنَّهُ مَنْ يَّتَّقِ وَيَصْبِرُ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ یعنی جو شخص ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی یہ خصوصی نعمت اس انسان کو ملتی ہے، جو احسان کے درجے میں اس کا استحقاق ثابت کرے۔ یعنی ہمیشہ اللہ سے پرامید رہے، اور ہر حال میں وہ صابرانہ انتظار کی روش پر قائم رہے۔

اس معاملے کی ایک مثال پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ملتی ہے۔ نے 610 عیسوی میں قدیم مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ وہاں کچھ لوگوں نے آپ کا ساتھ دیا، لیکن اکثریت آپ کی مخالف بن گئی۔ آخر کار یہ واضح ہو گیا کہ آپ کو مکہ چھوڑنا پڑے گا۔ اس زمانے میں

آپ اللہ سے بہت زیادہ دعائیں کرتے تھے۔ اس کا ثبوت قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے: وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا یعنی اور کہو کہ اے میرے رب، مجھ کو داخل کر سچا داخل کرنا اور مجھ کو نکال سچا نکالنا۔ مجھ کو اپنے پاس سے مددگار قوت عطا کر۔ یہ دعا قبول ہوئی، لیکن الفاظ کی صورت میں نہیں، بلکہ واقعات کی صورت میں۔

اس زمانے میں ہجرت سے تقریباً دو مہینہ پہلے وہ واقعہ ہوا، جو بیعت عقبہ ثانیہ کے نام سے بیعت عقبہ ثانیہ کا واقعہ بظاہر دعا کے جواب کے طور پر پیش نہیں آیا۔ مگر یہ وہی چیز تھی جس کو قرآن میں ریح (یوسف، 12:94) کہا گیا ہے۔ یعنی اس موقع پر آپ کو یہ انسپریشن ملا کہ تمھاری دعا نہایت اعلیٰ صورت میں قبول ہونے والی ہے۔ پیغمبر اسلام نے مدخل ومخرج کی دعائیں کی، لیکن اسی کے ساتھ آپ خصوصی طور پر تقویٰ اور صابرانہ روش کے ساتھ درجہ احسان پر قائم رہے۔ نے اس معاملے میں خدائی ریح پر بھروسہ کیا۔ یہاں تک کہ نبوت کے تیرھویں سال ہجرت مدینہ کا واقعہ پیش آیا۔ جو اسلام کی تاریخ کے لیے ایک بڑا انقلابی مرحلہ (breakthrough) ثابت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت سے کچھ پہلے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا: أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى، يَقُولُونَ يَثْرِبَ، وَهِيَ المَدِينَةُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1871)۔ ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، جو بستیوں کو کھا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، وہ مدینہ ہے۔ دعا کے بارے میں حدیث میں آیا ہے : الدُّعَاءُ مُخُّ العِبَادَةِ (سنن الترمذی، حدیث یعنی دعا عبادت کا مغز ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ دعا حکمت (wisdom) کا دعا کا خزانہ خدا کی دوسری رحمتوں کی طرح عام ہے۔ لیکن اس خزانہ دعا یا اس خزانہ رحمت سے صرف اس شخص کو حصہ ملتا ہے، جو محسن ہو۔ یعنی تقویٰ اور صبر کے مطلوب معیار پر قائم رہے۔ ایمان باللہ وہ ہے جو کسی کو معرفت کی سطح پر ملے، نہ کہ محض تقلید کی سطح پر۔

Printed page