آسان کا انتخاب
Al-Risala, January 2018, pp. 23–27
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام کی زندگی کے ایک معمول کو پیغمبر اسلام کی زوجہ عائشہ ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں: مَا خُيَّرَ رسول الله صلى الله عليه وسلم في أمرين إلا اختار أيسرهما (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4785)۔ یعنی جب بھی پیغمبر اسلام کو دو صورتوں میں ایک کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ آسان کا انتخاب کرتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملات میں پیغمبر اسلام کی عام پالیسی کیا تھی۔ تھی مشکل کے مقابلے میں آسان کا انتخاب کرنا۔
ہر صورت حال میں آدمی کے سامنے دو قسم کی چیزیں ہوتی ہیں۔ (problem) اور دوسرا، مواقع (opportunities)۔ اس وقت آدمی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔ پیغمبر اسلام کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ہمیشہ مواقع کو
اویل (avail) کرنے کا انتخاب کرتے تھے، نہ کہ مسائل سے ٹکراؤ کرنا۔
یہاں آسان کا لفظ اور مشکل کا لفظ اپنے ظاہری معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ اپنے نتیجہ کے اعتبار اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملات میں پیغمبر اسلام کی پالیسی یہ تھی کہ معاملات میں ایسے طریقہ کو اختیار کیا جائے جو قابل عمل (workable) ہو، جس پر کوئی نیا مسئلہ پیدا کیے بغیر عمل کرنا یہاں آسانی کا لفظ قابل عمل (workable) کے معنی میں ہے۔ یعنی ایسا طریقہ جس کو اختیار کرنے سے کوئی نیا مسئلہ پیدا نہ ہو، کوئی نیا مسئلہ پیدا کیے بغیر اس پر عمل کیا جا سکے۔ اس کے مقابلے میں ایک طریقہ وہ ہے جس پر عمل کرنے سے مسئلے میں اضافہ ہوتا ہو۔ طریقہ آپ کبھی اختیار نہیں کرتے تھے۔ مثلاً اگر ایک معاملے میں پرامن طریقہ اختیار کرنا ممکن ہو تو آپ کبھی تشدد کا طریقہ اختیار نہیں کرتے تھے۔ کیوں کہ پرامن طریقہ مسئلے میں اضافہ کیے بغیر قابل عمل ہوتا ہے، جب کہ تشدد کا طریقہ ہمیشہ مسئلہ میں اضافہ کرتا ہے۔ مثلاً پر تشدد طریقے میں تشدد پر نفرت کا اضافہ ہوتا ہے، وغیرہ۔
اگر آپ مسائل سے اپنا عمل شروع کریں تو فورا ہی آپ کا دوسروں سے ٹکراؤ ہو جائے گا۔ نامعلوم مدت تک آپ مسائل سے ٹکرانے میں لگے رہیں گے، اور یہ عمل مشت رہے گا کہ آپ کے لیے مواقع کو اویل کرنے کا وقت آتا ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس، اگر آپ مسائل سے اعراض کریں اور مواقع کو اویل کرنے سے اپنا عمل شروع کریں تو پہلے دن آپ کو اپنے عمل کا آغاز مل آپ پہلے دن سے مواقع کو اویل کرنا شروع کردیں گے۔ آپ کا ہر قدم آگے کی طرف جانے کے ہم معنی ہوگا۔ اسی کا نام منصوبہ بہ بند عمل ہے۔ منصوبہ بند عمل ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ برعکس، غیر منصوبہ بند عمل کے بارے میں کچھ نہیں معلوم کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ انسان رخی طرز فکر پیغمبر اسلام کا ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں آیا ہے: كان سهل بن حنیف، وقیس بن سعد قاعدین بالقادسية، فمروا عليهما بجنازة، فقاما، فقيل لهما
إنها من أهل الأرض أي من أهل الذمة، فقالا : إن النبي صلى الله عليه وسلم مرت به جنازة فقام، فقيل له: إنها جنازة يهودي، فقال : أليست نفسا (صحیح البخاری، حدیث نمبر یعنی سہل بن حنیف اور قیس بن سعد رضی اللہ عنہما قادسیہ میں ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں کچھ لوگ ادھر سے ایک جنازہ لے کر گزرے تو یہ دونوں کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے کہا کہ جنازہ تو ذمیوں کا ہے (جوغیر مسلم ہیں)۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس سے اسی طرح سے ایک جنازہ گزرا تھا۔ آپ اس کے لیے کھڑے ہو گئے۔ پھر آپ سے کہا گیا کہ یہ یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ نے فرمایا کیا وہ انسان نہیں؟
اس حدیث سے ایک اہم بات معلوم ہوتی ہے، اور وہ سماجی دانش مندی (social wisdom) سماج یا انسانی اجتماع ہمیشہ مختلف قسم کے انسانوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ لوگوں میں اختلافات پیدا ہو جائیں۔ لوگ کسی کو اپنا دشمن سمجھیں، اور کسی کو دوست، لوگ کسی کو اپنا سمجھیں اور کسی کو غیر کسی کے بارے میں وہ مثبت ہوں اور کسی کے بارے میں منفی۔ یہ کلچر پورے سماج کو ابدی طور پر غیر معتدل سماج بنا دیتا ہے۔
اس لیے اس طرح کی صورت حال کا بہترین حل یہ ہے کہ ہر انسان کو انسان سمجھا جائے۔ انسان کے بارے میں انسان رخی رویہ(human-friendly behaviour) اختیار کیا جائے۔ ہر انسان کو اپنے جیسا انسان سمجھا جائے۔ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عزت (mutual respect) کا طریقہ اختیار کیا جائے۔
پیغمبر اسلام نے خود اپنے عمل سے اس کا نمونہ قائم کیا۔ جیسا کہ معلوم ہے مدینہ ایک مختلف مذاہب کا معاشرہ تھا۔ پیغمبر اسلام نے اپنے عمل سے یہ ماڈل قائم کیا کہ ہر ایک انسان کے ساتھ یکساں طور پر عزت کا معاملہ کرنا۔ ہر انسان کو یکساں طور پر ایک ہی خالق کا پیدا کیا ہوا انسان سمجھنا۔ یکساں طور پر ہر ایک سے با عزت سلوک کا معاملہ صرف اخلاقی بات نہیں۔ اس کا تعلق براہ راست طور پر انسان کی ترقی سے ہے۔ ایسے ماحول میں سماج کا ہر فرد ایک دوسرے کا خیر خواہ ہوگا۔
انسان قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا مالک ہوگا۔ ہر انسان کو یہ موقع ہوگا کہ وہ خود بھی ترقی کرے، اور دوسروں کو بھی ترقی کا موقع دے۔ اس کے برعکس، اگر لوگ اس احساس میں جئیں کہ فلاں شخص ان کا اپنا ہے، اور فلاں شخص ان کا غیر۔ تو ایسے سماج کا ہر فرد اپنی سوچ کے اعتبار سے غیر معتدل ہو جائے گا۔ وہ خود بھی سماج کا ایک پرابلم ممبر (problem member) بنارہے گا، اور دوسروں کو بھی بلا اعلان یہ دعوت دے گا کہ تم بھی سماج کے پرابلم ممبر بن جاؤ۔ قناعت واحد حل ہے ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: لو كان لابن آدم واديان من مال لابتغى ثالثا، ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب، ويتوب الله على من تاب (صحیح البخاری، حدیث نمبر یعنی اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کا خواہشمند ہوگا، اور انسان کا پیٹ مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی، اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔ انسان پیدائشی طور پر لامحدود کا طالب ہے۔ کوئی محدود چیز خواہ بظاہر کتنی ہی بڑی دکھائی دے، وہ کبھی انسان کو مطمئن کرنے والی نہیں۔ انسان کو اس دنیا میں عملاً جو کچھ ملتا ہے، وہ ہمیشہ محدود طلب اور مطلوب میں یہی تضاد ہے، جو ہمیشہ انسان کو غیر مطمئن رکھتا ہے۔ انسان کا یہ عدم اطمینان (discontentment) بے فائدہ نہیں۔ اس کے پیچھے ایک اہم تخلیقی حکمت ہے۔ وہ حکمت یہ ہے کہ انسان اپنا مطلوب آخرت کو بنائے، نہ کہ دنیا کو۔ پیدائشی طور پر معیار کا طالب (ideal seeking) بنایا گیا ہے۔ جب کہ دنیا میں اس کے لیے جو قابل حصول چیزیں ہیں، وہ اس کی طلب سے بہت کم ہیں۔ آدمی بہت چاہتا ہے، مگر ہمیشہ اس کو کم ملتا آدمی ہمیشہ بہت زیادہ کا منصوبہ بناتا ہے لیکن اپنے منصوبہ کی تکمیل سے پہلے انسان اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔
طالب اور مطلوب میں یہ فرق اس لیے نہیں ہے کہ آدمی غیر مطمئن بنا رہے ۔ بلکہ وہ اس لیے ہے کہ انسان غور وفکر کے ذریعہ یہ دریافت کرے کہ اس کی طلب کا مطلوب کہاں ہے۔ جو آدمی اس
طرح سوچے وہ دانشمندانہ سوچ کا حامل بنے گا۔ وہ اپنی زندگی کی صحیح منزل کو جان لے گا۔ وہ جان لے گا کہ اس کے مطلوب کا نہ ملنا ایک اہم حکمت کے سبب سے ہے۔ وہ اس لیے ہے کہ اس کا ذہن ہمیشہ متحرک رہے، وہ کبھی جمود کا شکار نہ ہونے پائے۔
دنیا میں انسان کا یہ عدم اطمینان اس کو ابدی جنت کا طالب بناتا ہے۔ وہ اس پر غور وفکر کر کے اپنے مقصد اصلی کو جان لیتا ہے۔ وہ یہ جان لیتا ہے کہ اس کو کس طرح سچا طالب (true seeker) یہ چیز آدمی کو بھٹکنے سے بچا کر صحیح رخ پر سوچنے والا بنا دیتی ہے۔ جو آدمی اس طرح سوچے وہ کبھی منفی سوچ کا شکار نہ ہوگا، وہ ہمیشہ مثبت سوچ کا حامل بنا رہے گا، اور اس دنیا میں سب سے بڑی سوچ مثبت سوچ ہے۔