حالاتِ حاضرہ
Al-Risala, May 2018, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کوئی شخص اگر حالاتِ حاضرہ کے موضوع پر کلام کرتا ہے تو تقریباً ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ منفی انداز میں کلام کرتا ہے، وہ حالاتِ حاضرہ پر منفی تنقید کرتا ہے، وہ حالاتِ حاضرہ میں ظلم کی نشاندہی کرتا ہے، اور بطور خود کسی کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے اور پھر اس کے خلاف بولنا اور لکھنا شروع کر دیتا ہے۔ یہی معاملہ تقریر کا بھی ہے اور تحریر کا بھی۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب چیزوں کے بارے میں غلط معیار سے سوچنا ہے۔ یا محررین کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے ذہن کے مطابق، چیزوں کو جانچنے کا ایک معیار (yardstick) بنا یہ معیار ہمیشہ آئیڈیل پر مبنی ہوتا ہے۔ جب وہ اپنے اس آئیڈیل معیار پر چیزوں کو جانچتے ہیں تو پاتے ہیں کہ ہر چیز ان کی معیار سے کم ہے۔ اس ذاتی تجربے کی بنا پر وہ منفی بن جاتے ہیں، اور چیزوں کے بارے میں منفی رائے دینا شروع کر دیتے ہیں۔ بطور خود وہ اس کو تنقید (criticism) یہ رواج ہمیشہ خود ناقد کی غلط فکری پر مبنی ہوتا ہے۔ اجتماعی حالات کبھی آئیڈیل نہیں ہو سکتے۔ چوں کہ ہر آدمی کو آزادی ملی ہوئی ہے، اس لیے ہر آدمی اپنی آزادی کو اپنی سوچ کے مطابق استعمال کرتا آزادی کا یہ استعمال دوسروں کی سوچ سے ٹکراتا ہے۔ جب ہر آدمی اپنی آزادی پر چلے تو لازماً ایسا ہوگا کہ ایک صورت حال جو ایک شخص کو درست معلوم ہو، وہ دوسرے کو غلط نظر آئے۔ یہ فطرت کا نظام ہے۔ اس نظام کے سوا کوئی اور نظام اس دنیا میں ممکن نہیں۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ آئیڈیلسٹ (idealist) نہ بنیں، بلکہ وہ پریگمیٹک (pragmatic) بنیں۔ نہ دیکھیں کہ کیا ہونا چاہیے، بلکہ وہ یہ دیکھیں کہ عملاً کیا ہو سکتا ہے۔ مذکورہ رواج کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ ہر آدمی منفی سوچ میں مبتلا ہے۔ ہر آدمی دوسروں کے خلاف شکایت لیے ہوئے ہے۔ لوگ حقیقت پسند بنیں، اور چیزوں کو آئیڈیل معیار پر نہ جانچیں، بلکہ پریگمیٹک معیار پر جانچیں تو اس منفی صورت حال کا خاتمہ ہو جائے گا۔