بسم اللہ سے آغاز
Al-Risala, June 2018, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: کُلُّ کَلَامٍ، أَوْ أَمْرِ ذِي بَالٍ لَا يُفْتَحُ بِذِكْرِ اللهِ، فَهُوَ أَبْتَرُ - أَوْ قَالَ: أَقْطَعُ - (مسند احمد، حدیث نمبر 8712)۔ یعنی ہر کلام یا اہم معاملہ جس کو اللہ کے ذکر سے شروع نہ کیا جائے تو وہ دم بریده یا کٹا ہوا ہے۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں مختلف الفاظ میں آئی ہے۔ ان کا مشترک مفہوم یہ ہے کہ جس کا کام آغاز بسم اللہ سے کیا جائے اس کا انجام بہتر ہوگا، اور جس کام کا آغاز بسم اللہ سے نہ کیا جائے اس کا انجام بے نتیجہ ہوگا۔ بسم اللہ سے آغاز کا مطلب محض لفظی آغاز نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب کام میں خدائی اسپرٹ کا ہونا ہے، نہ کہ لفظی اعتبار سے دہرادینا۔ بسم اللہ سے آغاز کا مطلب یہ ہے کہ کسی کام کو صحیح رخ سے آغاز کسی کام کو حوصلہ مندانہ اسپرٹ کے ساتھ آغاز کرنا، کسی کام کو اس ذہن کے ساتھ آغاز کرنا کہ کرنے والا اگر چہ انسان ہے، لیکن اس کی تکمیل اللہ رب العالمین کے ہاتھ میں ہے، اور اللہ رب العالمین ضرور اس کام کو تکمیل تک پہنچائے گا۔
کسی کام کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ شروع کرنا، یہ معنی رکھتا ہے کہ بندے نے اپنے ذاتی عزم (determination) کے ساتھ اللہ رب العالمین کی رحمت کو بھی پوری طرح شامل کر لیا اس نے اپنے اندر یہ اسپرٹ شامل (inculcate) کر لیا ہے کہ خواہ حالات کچھ بھی پیش آئیں، اس کی نظر حالات کے بجائے اللہ کی رحمت پر ہونی چاہیے۔
بندے کے وسائل ہمیشہ محدود ہوتے ہیں، لیکن اللہ کی رحمت کی کوئی حد نہیں۔ میں کسی کام کو شروع کرتے ہوئے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی حقیقت کو یاد کرنا، یہ معنی رکھتا ہے کہ بندے نے اپنی محدودیت کے ساتھ اللہ کی لا محدودیت کو اپنے ساتھ شامل کر لیا ہے۔ اس نے امید کے ساتھ یقین کو اپنا سہارا بنا لیا ہے۔ بندے کی طرف سے یہ اسپرٹ گویا اللہ کی رحمت کو انووک (invoke) کرنا ہے۔ یہ گویا اسم اعظم کے ساتھ اللہ کو یاد کرنا ہے۔