جنت کا حصول
Al-Risala, June 2018, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت ایک صاحبِ معرفت کی سب سے بڑی آرزو ہے۔ جنت کے بارے میں پیغمبرِ اسلام کی بہت سی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا، فَإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ أَحَدًا الْجَنَّةَ عَمَلُهُ، قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6467)۔ درستی اور اعتدال پر قائم رہو اور پر امید رہو، کیوں کہ کسی کا عمل اسے جنت میں نہیں پہنچائے گا۔ نے پوچھا آپ کو بھی نہیں، اے اللہ کے رسول۔ آپ نے فرمایا مجھ کو بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ مغفرت اور رحمت سے مجھ کو ڈھانپ لے۔
جنت انسان کا ہیبیٹاٹ (habitat) ہے۔ جنت وہ آئیڈیل دنیا ہے، جہاں انسان کو ابدی عمر ملے گی ۔ جہاں کسی قسم کا حزن (sorrow) نہ ہوگا۔ جوہر قسم کی محدودیت (limitations) سے جہاں انسان کو کامل معنوں میں فل فل مینٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ کوئی تکلیف ہوگی، اور نہ کوئی بورڈم (boredom) ہوگا۔ ایسی دنیا بلا شبہ ایک بیحد قیمتی دنیا ہے۔ کوئی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ ایسی اعلیٰ دنیا کی قیمت ادا کر سکے۔
یہ جنت کسی کو اس کے عمل کی قیمت کے طور پر نہیں ملے گی۔ وہ صرف ان منتخب افراد کو ملے گی، جن کو رب العالمین اس قابل پائے کہ وہ جنت میں اعلیٰ اخلاق سورۃالقلم، 68:4) کے ساتھ رہ جنت میں پوری انسانی تاریخ کے منتخب افراد بسائے جائیں گے۔ یہ اعلیٰ درجے کی ایک رفاقت کا ماحول ہوگا۔ یہ ایسے لوگوں کی دنیا ہوگی، جو فرشتوں کی رپورٹ کے مطابق، اپنی سوچ اور اپنے کردار کے اعتبار سے اس کا اہل بنے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے— وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ ہے ان کی رفاقت (سورۃ النساء، 4:69)۔ جنت ایک انعام ہے، جنت عمل کا معاوضہ نہیں۔