Al-Risala · June 2018

جنت کا تجربہ

Al-Risala, June 2018, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام کی ایک روایت حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں آئی ہے : ہے:فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَأَحَدُهُمْ بِمَسْکَنِہِ فِي الجَنَّةِ أَدَلُّ بِمَنْزِلِهِ کَانَ فِي الدُّنْيَا (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 2440 ) یعنی اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے ، ان میں کا کوئی شخص جنت میں اپنے گھر کو اس سے زیادہ پہچانے گا ، جتنا کہ وہ دنیا میں اپنے گھر کو پہچانتا تھا۔ دنیا کی زندگی میں جو گھر آدمی کور ہنے کے لیے ملتا ہے ، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے تو جنت نہیں ہوتا۔ لیکن اگر انسان اس کو ایک خدائی عطیے کے طور پر دریافت کرے تو اس کا گھر اس کو اتنی بڑی نعمت معلوم ہوگا ، جیسے کہ اللہ نے اس کو اسی دنیا میں اس کا جنتی گھر دے دیا۔

ایک مومن دنیا میں اپنا ایک گھر بنائے ، اور وہ وہاں رہنا شروع کر دے۔ تو اس کی معرفت کی بنا پر اس کے لیے یہ گھر عام قسم کا ایک گھر نہیں ہوگا۔ وہ ہر لمحہ اپنے دنیا کے گھر کی صورت میں جنت کے گھر کو دریافت کرے گا۔ اس کا نعمت سے بھرا ہوا احساس اس کے لیے اپنے گھر کو ایک اعلیٰ تجربہ وہ ہر چیز میں اللہ کی نعمت کو دریافت کرے گا۔ وہ ہر چیز میں اپنے جنتی گھر کی جھلک دیکھے یہ احساس دھیرے دھیرے اتنا شدید بن جائے گا کہ اس کو محسوس ہوگا جیسے کہ اللہ نے اس کو اسی دنیا میں پیشگی طور پر وہ گھر دے دیا ہے جو جنت کی دنیا میں اس کو ملنے والا ہے۔ اس کا یہ بڑھا ہوا احساس اس کو اس قابل بنادے گا کہ وہ ایسی دعائیں کرے جو اللہ کی رحمت کو انووک (invoke) کرنے والی ہوں ، جو اس کے لیے اسم اعظم کی دعا بن جائے۔ مثلاً شکر کے گہرے احساس کے ساتھ اس کی زبان سے نکلے گا کہ خدایا تو نے اسی دنیا میں مجھ کو ایک جنتی گھر دے اب کیا تو ایسا کرے گا کہ آخرت میں مجھ سے میرا جنتی گھر واپس لے لے۔ کیا تیرے رحیم و کریم ہونے کی صفت یہ چیز گوارا کرے گی کہ ایک چیز مجھ کو دے دے ، اور پھر اس کو مجھ سے واپس

Printed page