Al-Risala · January 2018

ہر ایک کے لیے خیر

Al-Risala, January 2018, pp. 27–28

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: المؤمن القوي، خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف، وفي كل خير احرص على ماينفعك، واستعن بالله ولا تعجز، وإن أصابك شيء، فلا تقل لو أني فعلت كذا وكذا، ولكن قل قدر الله وما شاء فعل، فإن لو تفتح عمل الشيطان (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2664)۔ یعنی ضعیف مومن کے مقابلے میں قوی مومن کے لیے خیر ہے، اور وہ اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے، لیکن ہر ایک میں خیر ہے۔ حرص کرو اس کی جو تم کو فائدہ پہنچائے۔ اللہ سے مدد مانگو، کمزوری نہ دکھاؤ۔ اگر تم کو نقصان پہنچے تو یہ نہ کہو کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو ایسا ہوتا۔ لیکن کہو اللہ نے مقدر کیا تھا، اور اس نے جو چاہا، وہی کیوں کہ اگر “شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔

اس حدیث سے تخلیق کی ایک حکمت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ بظاہر کوئی شخص کمزور دکھائی دے تو یہ کمزوری ایک اعتبار سے ہوگی، ہر اعتبار سے نہیں۔ یہ تخلیق کا اصول ہے کہ اگر آدمی ایک اعتبار سے کمتر ہوتا ہے تو کسی دوسرے اعتبار سے اسے برتر صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی شخص جسمانی اعتبار سے ضعیف ہو تو وہ دماغ کے اعتبار سے قوی ہوگا۔ کوئی شخص یاد (memory) کے

اعتبار سے کم ہو تو وہ تجزیہ (analysis) کے اعتبار سے زیادہ ہوگا۔ کوئی شخص بزنس کے اعتبار سے کم ہو تو وہ علم کے اعتبار سے زیادہ ہوگا، وغیرہ۔

موجودہ زمانے میں یہ بات ریسرچ سے ثابت ہوگئی ہے کہ کوئی شخص مطلق معنوں میں قوی یا ضعیف نہیں ہوتا۔ چناں چہ پہلے معذور کے لیے ڈس ایبلڈ (disabled) کا لفظ بولا جاتا تھا۔ اب یہ لفظ متروک ہو گیا ہے۔ اب ایسے افراد کو ڈفرینٹلی ایبلڈ (differently abled) کہا جاتا یعنی ایک اعتبار سے معذور اور دوسرے اعتبار سے طاقت ور۔

تخلیق کے اس نظام کا تقاضا ہے کہ آدمی کو کسی بھی حال میں مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔ چاہیے کہ وہ اپنے ظاہر پر رائے قائم نہ کرے، بلکہ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ اپنے معاملے پر سوچے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو دریافت (discover) کرے ۔ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے انسان کو جانے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے ۔

Printed page