اسفل سافلین کیوں
Al-Risala, June 2018, pp. 13–14
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورۃ التین میں بتایا گیا ہے کہ خالق نے انسان کو احسن تقویم کے ساتھ پیدا کیا، اس کے بعد اس کو اسفل سافلین میں ڈال دیا۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب ایک اور حدیث کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 91)۔ یعنی جنت میں وہ شخص داخل نہ ہوگا، جس کے دل میں ذرے کے برابر کبر ہو۔
انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ عمومی طور پر اس کا حال یہ ہے کہ وہ احسن تقویم کا تحمل نہیں کرپاتا۔ کبر کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ کسی کے اندر یہ نفسیات کم ہوتی ہے، اور کسی کے اندر زیادہ۔ کی ترقی کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اس کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج ہو، اور یہ صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب کہ انسان آخری حد تک کٹ ٹو سائز (cut to size) ہو جائے۔ انسان کٹ ٹو سائز ہوتا ہے، اس وقت اس کے اندر تواضع (modesty) آتا ہے۔ وہ حقیقت پسند بن اس کے اندر اپنے محاسبے کا مزاج پیدا ہوتا ہے۔ وہ متکبر انسان کے بجائے متواضع انسان بن اس کے اندر خود پسندی کے بجائے خدا پسندی کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ آخری حد تک سنجیدہ (sincere) بن جاتا ہے۔ اس کے ذہن کی تمام بند کھڑکیاں کھل جاتی ہیں، یہ صفتیں آدمی کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ اپنے پوٹینشل کو ایکچول بنائے۔
یہ صفات آدمی کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ اس دنیا میں اللہ رب العالمين کے مقابلے میں حقیقی معنوں میں عبد بن جائے۔ وہ قادر مطلق خدا (all-powerful God) کے مقابلے میں عاجز مطلق (all powerless) کی دوسری حد (extent) بنائے انسان چوں کہ اس دنیا میں ایک مکرم مخلوق کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے تمام انسان کسی نہ کسی درجے میں کبر (arrogance) کا کیس بن جاتے ہیں۔ یہ نفسیات انسان کی ترقی میں
حتمی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ اس کا موثر حل صرف یہ تھا کہ انسان کے اوپر اس معاملے میں دباؤ (compulsion) پیدا کیا جائے۔ یہی کمپلشن پیدا کرنے کے لیے خالق نے انسان کو احسن تقویم ہونے کے باوجود اسفل سافلین کی حالت میں ڈال دیا۔ اگر چہ یہ ایک واقعہ ہے کہ اس شدید تجربے کے باوجود تاریخ میں بہت کم انسان ایسے نکلے جو اس معیار پر پورے اتریں۔ لیکن اگر ایسا نہ کیا جاتا تو شاید پوری تاریخ گزر جاتی، اور کوئی ایک انسان بھی ایسا پیدا نہ ہوتا جو اللہ کے عظیم عطیے کو پا کر حقیقی معنوں میں اس کا بندہ شاکر بن جائے۔
احسن تقویم سے مراد فطرت کا عطیہ ہے، اور اسفل سافلین سے مراد وہ ناپسندیدہ صورت حال ہے، جو اسباب وعلل کے تحت انسان کو پیش آتی ہے۔ اگر آدمی حالات کو مینج (manage) کرنا سیکھ لے، تو وہ اس آزمائش میں بچ جائے گا، اور اگر وہ آرٹ آف مینجمنٹ نہ جانے تو وہ آزمائش کا شکار ہو کر نا کام رہے گا۔ اس دنیا میں کامیابی اور ناکامی دونوں انسان کا اپنا فعل ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ مثبت انداز میں سوچے منفی اندازِ فکر انسان کو بگاڑتا ہے، اور مثبت اندازِ فکر انسان کو بچا لیتا ہے۔
جنتی دنیا میں انسان کامل آزادی کے ساتھ رہے گا، لیکن وہ اتنا زیادہ پختہ اور اتنا زیادہ باشعور ہوگا کہ وہ کسی بھی حال میں اپنی آزادی کا غلط استعمال نہیں کرے گا۔ پوری طرح آزاد ہوتے ہوئے بھی پوری طرح ڈسپلن میں رہے گا۔ یہی وہ انسان ہے جس کے سلیکشن کے لیے موجودہ زمینی سیارہ بنایا گیا۔ موجودہ دنیا میں بھی وہ سارے حالات پائے جاتے ہیں جو جنتی دنیا میں موجود ہوں گے۔ اب یہ دیکھا جا رہا ہے کہ وہ کون انسان ہے جس نے ہر قسم کے حالات سے گزرتے ہوئے جنتی کیریکٹر کا ثبوت اُسی انسان کا انتخاب کر کے اس کو جنتی دنیا میں ابدی طور پر بسادیا جائے گا۔