Al-Risala · June 2018

تاریخ کا اعادہ

Al-Risala, June 2018, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

یہود کی تاریخ کا ایک واقعہ قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ - فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (58-59: 2)۔ یعنی اور جب ہم نے کہا کہ داخل ہو جاؤ اس شہر میں اور کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو فراغت کے ساتھ، اور داخل ہو دروازے میں سر جھکائے ہوئے اور کہو کہ ہماری خطاؤں کو بخش دے۔ ہم تمہاری خطاؤں کو بخش دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو زیادہ بھی دیں گے۔ تو ظالموں نے بدل دیا اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی، دوسری بات سے۔ پر ہم نے ان لوگوں کے اوپر جنھوں نے ظلم کیا، ان کی نافرمانی کے سبب سے، آسمان سے رجز اتارا۔ یہی واقعہ بدلی ہوئی صورت میں امت مسلمہ کے ساتھ پیش آیا۔ موجودہ زمانہ امت مسلمہ کے لیے ایک نئے دور میں داخل ہونے کا زمانہ تھا، وہ زمانہ جس میں مواقع (opportunities) کا انفجار تھا، جہاں ان کے لیے ہر قسم کے مواقع اعلیٰ پیمانے پر موجود تھے۔ اس زمانے کی پیشین گوئی پیغمبر اسلام نے بہت پہلے کردی تھی۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے کہ آفاق و انفس کی نشانیاں دین اسلام کی صداقت بن جائیں گی گی(سورۃ فصلت، 41:53)۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے میں غیر مسلم قومیں بھی اسلام کی موید (supporters) بن جائیں گی (مسند احمد، حدیث نمبر موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی پوری طرح واقعہ بن چکی ہے۔ لیکن مسلمان اپنے منفی نفسیات کی بنا پر ان مواقع کو پہچاننے میں ناکام ہوگئے۔ بجائے اس کے کہ وہ دور حاضر کے ان مواقع کو خدائی مشن، دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کرتے، وہ دور حاضر کو دشمن سمجھ کر اس کے خلاف یہ واقعہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان اللہ رب العالمین کے منصوبے کو سمجھنے میں ناکام رہے۔

Printed page