دو دنیائیں
Al-Risala, June 2018, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں دو دنیاؤں کا ذکر ہے۔ ایک انسانی دنیا، اور دوسری مادی دنیا۔ قرآن کے بیان کے مطابق، انسانی دنیا عملاً دارالفساد بنی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تا کہ اللہ مزہ چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں ۔ انسانی دنیا سے مراد زمین پر قائم شدہ وہ دنیا ہے، جہاں انسان کو کامل آزادی حاصل ہے۔ قرآن اور تاریخ دونوں کا بیان ہے کہ یہ دنیا عملاً دار الفساد (world of corruption) بنی ہوئی ہے۔
دوسری دنیا وہ ہے، جس کو سمجھنے کے لیے ہم فطرت کی دنیا کہہ سکتے ہیں۔ فطرت کی دنیا سے مراد وہ مادی دنیا ہے، جو قوانین فطرت (laws of nature) کے تحت چل رہی ہے۔ کے بارے میں قرآن کا بیان ہے کہ یہ مکمل طور پر ایک آئیڈیل ورلڈ ہے۔ مثلاً سورج کے طلوع کا جو وقت ہے، وہ ہمیشہ یکساں رہتا ہے، اسی طرح سورج کے غروب کا جو وقت ہے، وہ بھی ہمیشہ یکساں رہتا ہے، وغیرہ۔ اس کے بارے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ (36:40)۔ یعنی نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ رات ، دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔
اسی طرح قرآن کی ایک آیت یہ ہے: الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ - ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ (67:3-4)۔ یعنی جس نے بنائے سات آسمان اوپر تلے، تم رحمن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے۔ پھر بار بار
گویا یہ کائناتی دنیا خالی از فطور دنیا (flawless world) ہے۔ اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے کہ فطرت کی دنیا ایک ایسی دنیا ہے، جو صحت کی بنا پر پورے معنوں میں ایک قابل پیشین گوئی دنیا (predictable world) ہے۔ اس کے برعکس، انسانی دنیا پوری کی پوری ناقابل پیشین گوئی دنیا (unpredictable world) بنی ہوئی ہے۔
یہ فرق کوئی سادہ بات نہیں۔ اس فرق کے تقابلی مطالعے (comparative study) کے ذریعے ہم ایک عظیم حقیقت کو دریافت کرتے ہیں، اور وہ اللہ رب العالمین کی دریافت ہے، جو اپنی غیر معمولی طاقت کے ذریعے پوری کائنات کو نہایت صحت کے ساتھ مینج (manage) کر رہا اس کے برعکس، انسان کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں ہے۔ اس لیے انسانی دنیا میں اس قسم کا مینجمنٹ موجود نہیں۔ دونوں دنیاؤں کے فرق پر اس عالمی اصول کو منطبق کیجیے، جو ان الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے کہ چیزیں تقابل کے ذریعے پہچانی جاتی ہیں :
تعرف الاشياء باضدادها In comparison that you understand از الی منو نام میں نقص کا موجود ہونا ماتا جاتا ہے کہ ان الی منو کا مینو ان الی انسانی دنیا میں نقص کا موجود ہونا، یہ بتاتا ہے کہ انسانی دنیا کا مینیجر انسان ہے، اور انسان کا مینجمنٹ اس کی اپنی کمزوریوں کی بنا پر پُر عیب مینجمنٹ (defective management) بن جاتا اس کے برعکس، کائنات کا منتظم (manager) ایک ایسی ہستی ہے، جو پوری طرح عیب اور نقص سے خالی ہے۔ اس کی ہستی ہر اعتبار سے ایک بے عیب ہستی ہے۔ یہ فرق اللہ رب العالمین کے وجود کا ایک یقینی ثبوت ہے۔
موجودہ دنیا میں عقل کا ہے۔ جو آدمی سوچ سمجھ کر کام کرے گا، وہ کامیاب ہوگا اور جو شخص محض جذبات کے تحت کام کرے گا، وہ ناکام ہوگا۔