Al-Risala · June 2018

بے نقص کائنات

Al-Risala, June 2018, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

ہماری کائنات ایک بے نقص کائنات ہے۔ قرآن میں اس کائناتی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَّا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِنْ تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِنْ فُطُورٍ - ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ یعنی جس نے بنائے سات آسمان، اوپر نیچے، تم رحمن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے، پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لو، کہیں تم کو کوئی خلل نظر آتا ہے۔ پھر بار بار لوٹاؤ نگاہ کو، نگاہ نا کام تھک کر تمہاری طرف واپس آجائے گی۔

موجودہ زمانے میں کائنات کا مطالعہ نہایت وسیع پیمانے پر کیا گیا ہے۔ دوربین اور خورد بین کے ذریعے انسان مشاہدہ کی اس حد تک پہنچ گیا ہے، جو پہلے بالکل ممکن نہ تھا۔ اس مشاہدے کے ذریعے انسان کائنات کے بڑے اجسام سے بہت زیادہ واقف ہو گیا ہے، اور کائنات کے چھوٹے اجسام سے بھی۔ اس مشاہدے نے انسان کو صرف یہ بتایا ہے کہ قرآن کا دعویٰ مکمل طور پر ایک صحیح اب یہ ایک مسلم حقیقت بن گئی ہے کہ کائنات بے حد منظم کائنات ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کا نقص (defect) موجود نہیں ۔

موجودہ زمانے میں انسان نے ٹکنالوجی کی دنیا میں بہت زیادہ ترقی کی ہے ۔ بہت زیادہ چاہا کہ انسانی دنیا کے مینجمنٹ کو زیر و ڈیفیکٹ مینجمنٹ کی سطح تک پہنچائے۔ مگر غیر معمولی کوششوں کے باوجود انسان زیر و ڈیفیکٹ مینجمنٹ کی سطح پر اپنے کسی نظام کو قائم نہ کر سکا۔ موضوع پر بڑی تعداد میں مضامین لکھے گئے ہیں، اور کتابیں چھاپی گئی ہیں۔ ان میں سے انٹرنیٹ پر ایک آرٹیکل یہ ہے:

The Concept of Zero Defects in Quality Management, by Ms Chandana Das

پیغمبر اسلام شخصیت کے چند نمونے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مربی اللہ تعالیٰ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سلسلے میں مختلف موقع پر جور ہنمائی اتری ان میں سے ایک وہ تھی جس کو مثبت مزاج کی تعمیر کہا جا سکتا ہے۔ میں ہر ایک کے ساتھ ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو بظاہر ناخوشگوار دکھائی دیتے ہیں۔ کی زندگی میں بھی بار بار ایسے واقعات پیش آئے۔ ایسے موقع پر ہر بار اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رہنمائی دی گئی کہ بظاہر ایک غیر موافق واقعے میں بھی کس طرح موافق پہلو چھپا ہوا ہے۔ قدیم مکہ میں جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت توحید کا آغاز کیا تو وہاں سخت قسم کی مشکلات پیش آئیں ۔ اس وقت قرآن میں یہ رہنمائی دی گئی: فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا - إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا یعنی مشکلات سے نہ گھبراؤ، کیوں کہ اس دنیا میں ہر مشکل کے ساتھ آسانی موجود ہوتی ہے۔ اسی طرح آپ کے مشن کے بارے میں آپ کے مخالفین نے بڑے پیمانے پر جھوٹا پروپیگنڈا شروع کیا۔ آپ پر طرح طرح کے عیب اور الزام لگائے گئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ رہنمائی اتری: وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ (94:4) یعنی اس پروپیگنڈے کے ذریعہ تمھارا چرچا ہر طرف پھیل رہا ہے۔ اس لیے اس کو مخالفانہ پروپیگنڈا نہ سمجھو، بلکہ اس کو اپنا اور اپنے مشن کا رفع ذکر سمجھو۔

تقریباً 20 سال تک تبلیغ کرنے کے باوجود آپ اور آپ کے ساتھی عرب میں اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے، اور مشرکین اکثریت میں تھے۔ اس وقت آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو فطرت کا ایک قانون یاد دلاتے ہوئے قرآن میں کہا گیا: كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ (2:249)۔ یعنی اس دنیا میں کتنی ہی بار ایسا ہوا ہے کہ عددی اقلیت رکھنے والا گروہ، عددی اکثریت کے اوپر غالب آیا۔

اسی طرح 3 ہجری میں غزوۂ اُحد پیش آیا۔ اس میں مسلمانوں کو مشرکین کے مقابلے میں شکست یہ بظاہر ایک دل شکن واقعہ تھا۔ مگر اس وقت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جورہ نما آیتیں اتریں، وہ دوبارہ اس کے روشن پہلو کی طرف نشاندہی کرنے والی تھیں۔ ان میں سے قرآن کی ایک آیت یہ ہے: اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مُّثْلُهُ وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ یعنی احد کی جنگ میں اگر تم کو زخم پہنچا ہے تو اس سے پہلے بدر کی جنگ میں مشرکین کو زخم پہنچ چکا ہے۔ اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔

اسی طرح 6 ہجری میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان وہ واقعہ پیش آیا جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ صلح بظاہر مسلمانوں کی سیاسی شکست کے ہم معنی تھی۔ مگر قرآن میں جب اس پر تبصرہ کیا گیا تو برعکس طور پر، اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا: اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا (48:1) یعنی ہم نے تم کو تمھارے حریف کے اوپر کھلی فتح دے دی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بظاہر سیاسی شکست کے باوجود اس معاملے میں تم کو اخلاقی فتح حاصل ہوئی ہے، جو آخر کار مکمل فتح بننے والی اس خدائی تربیت نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسا انسان بنا دیا جو منفی طرزِ فکر سے مکمل طور پر خالی تھا۔ آپ مثبت فکر میں اتنا زیادہ بڑھے ہوئے تھے کہ بلاشبہ آپ کو دنیا کا سب سے بڑا مثبت مفکر (positive thinker) کہا جا سکتا ہے۔

Printed page