باشعور انسان کا معاملہ
Al-Risala, January 2018, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عجبا لأمر المؤمن، إن أمره كله خير، وليس ذاك لأحد إلا للمؤمن، إن أصابته سراء شكر، فكان خيرا له، وإن أصابته ضراء، صبر فكان خيرا لہ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 2999) ۔ اس حدیث میں مومن سے مراد معروف معنوں میں صاحب عقیدہ انسان نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد باشعور انسان ہے۔ مراد وہ انسان ہے جو صاحب معرفت انسان ہو، جو تدبر اور تفکر کی صفت کا حامل ہو۔ جس نے مطالعہ اور غور وفکر کے ذریعہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن (prepared mind) بنایا ہو۔
ایسا انسان ہر چیز میں اس کے اندر چھپی ہوئی تخلیقی حکمت کو دریافت کرلیتا ہے ۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہے، اس کے اندر یقیناً کوئی گہری حکمت موجود ہے ۔ کو ذاتی نگاہ سے نہیں دیکھتا، بلکہ تخلیق کی حکمت کے اعتبار سے دیکھتا ہے ۔ اس ربانی طرز فکر کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ منفی میں مثبت کو دیکھنے والا بن جاتا ہے ۔ وہ اپنے مائنس پوائنٹ میں اپنے پلس پوائنٹ کو
دریافت کر لیتا ہے ۔ وہ بظاہر نا امیدی میں امید کے پہلو کو جان لیتا ہے ۔ وہ موت میں زندگی کا سرمایہ دریافت کر لیتا ہے ۔ وہ اپنی شعوری بلندی کی بنا پر شکست میں فتح کار از دریافت کر لیتا ہے۔ چیزوں کو بے آمیز صورت میں دیکھنا پیغمبر اسلام کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ تھی: اللهم، أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلا ووفقنا لاجتنابه، ولا تجعله ملتبسا علينا فنضل، واجعلنا للمتقين إماما (تفسیر ابن کثیر، یعنی اے اللہ ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا، اور اس کے اتباع کی توفیق دے، اور باطل کو باطل کی صورت میں دکھا، اور اس سے بچنے کی توفیق دے، اور اس کو ہمارے اوپر ملتبس نہ کر کہ ہم گمراہ ہو جائیں ، اور ہمیں متقیوں کا امام بنا۔ ایک اور دعا ان الفاظ میں آئی ہے: اللهم أرنا الأشياء كما هي (تفسیر الرازی، 1/119)۔ یعنی اے اللہ، ہمیں چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں۔
ان دونوں دعاؤں کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کے اندر یہ صفت پیدا ہو کہ وہ بے آمیز انداز میں بے آمیز کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ذہنی اعتبار سے اتنا زیادہ ترقی یافتہ ہو کہ وہ حق کو حق کی صورت میں دیکھ سکے ، اور باطل کو باطل کی صورت میں دیکھے ۔ وہ چیزوں کو ویسا ہی دیکھے، جیسا کہ وہ فی
یہ وہی سوچ ہے جس کو موضوعی سوچ (objective thinking) کہا جاتا ہے۔ ایز اٹ از تھنکنگ (as it is thinking) ۔ آدمی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کسی ماحول میں رہتا ماحول کے اثر سے اس کے اندر مختلف قسم کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے متاثر ذہن کے تحت چیزوں کے بارے میں رائے قائم کرنے لگتا ہے۔ یہی تمام خرابیوں کی جڑ ہے۔ آدمی کے اندر یہ کمزوری آ جاتی ہے کہ وہ چیزوں کو ان کی حقیقت کے اعتبار سے نہیں دیکھ پاتا، بلکہ اپنے متاثر ذہن کے مطابق ایک خود ساختہ رائے بناتا ہے۔
جس انسان کے اندر ایز اٹ از تھنکنگ (as it is thinking) کی صفت ہو، وہ اس
قابل ہو جاتا ہے کہ مبنی بر حقیقت سوچے، مبنی بر حقیقت رائے قائم کرے، مبنی بر حقیقت منصوبہ یہ صفت کسی آدمی کو حکیم (man of wisdom) بناتی ہے، اور جو آدمی اس معنی میں حکیم (wise) ہو، وہی وہ انسان ہے جس کو سوپر مین (superman) کہا جاتا ہے۔