ہدایت کے لئے تڑپنا
Al-Risala, June 2018, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورۃ الشعراء میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ - لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ - إِنْ نَّشَأْنُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ (26: 4-2)۔ یعنی یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ شاید تم اپنے کو ہلاک کر ڈالو گے اس پر کہ وہ ایمان نہیں لاتے ۔ اگر ہم چاہیں تو تم پر آسمان سے نشانی اتار دیں، پھر ان کی گردنیں اس کے آگے جھک جائیں۔
یہ اور اس طرح کی دوسری شہادتیں بتاتی ہیں کہ پیغمبرِ اسلام اپنے مخاطبین کی ہدایت کے لیے کتنا زیادہ حریص تھے۔ ”شاید تم اپنے آپ کو ہلاک کر لو گے“ کا جملہ اس کا مل خیر خواہی کو بتا رہا ہے جو پیغمبر اسلام کو اپنے مخاطبین کے حق میں تھی۔ دعوتی عمل خالص خیر خواہی کے جذبے سے ابلتا ہے۔
پیغمبر اسلام نے اسی کامل خیر خواہی کے تحت اپنی قوم کو حق کی دعوت پہنچائی۔ اور آپ نے اپنی تمام کوششیں اس کی راہ میں صرف کردیں ۔ اس کے باوجود ان کی اکثریت آپ کے پیغام کو ماننے پر راضی نہ ہوئی۔ اس کے بعد آپ کا حال یہ ہوا کہ آپ ان کی ہدایت کے غم میں ہلکان ہونے لگے۔ کے دن کا چین رخصت ہو گیا اور آپ کی رات کی نیند غائب ہو گئی۔
لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ (شاید تم اپنے آپ کو ہلاک کر لو گے) کا مطلب آپ کو اس سے روکنا نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ آپ نے اپنی پیغمبرانہ ذمے داری کو اس کی آخری اور انتہائی حد تک ادا کر دیا۔ دوسرے کی ہدایت کے لیے اپنے آپ کو ہلکان کرنا، پیغمبر کی شخصیت کا اہم ترین وصف ہے۔ اس وصف میں آپ بلاشبہ کمال کے درجے کو پہنچے ہوئے تھے۔