آخرت کی فکر
Al-Risala, June 2018, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار اپنی ایک اہلیہ کے مکان میں تھے۔ ان کے یہاں ایک خادمہ تھی۔ آپ نے کسی فوری ضرورت کے تحت خادمہ کو باہر اس نے آنے میں دیر کی۔ معلوم ہوا کہ وہ راستہ میں بچوں کا کھیل دیکھنے کے لیے کھڑی ہو گئی خادمہ جب تاخیر کے ساتھ واپس آئی تو اس کو دیکھ کر آپ کے چہرے پر غصے کے آثار ظاہر اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک مسواک تھی۔ آپ نے خادمہ سے کہا: لَوْلَا خَشْیَةُ الْقَوْدِ يَوْمَ الْقِیَامَةِ، لَأَوْجَعْتُکَ بِہَذَا السِّوَاک (الادب المفرد، حدیث نمبر (184)۔ یعنی اگر قیامت میں بدلے کا ڈر نہ ہوتا تو میں تم کو اس مسواک سے مارتا۔
پیغمبر اسلام لوگوں کو قیامت کی پکڑ سے ڈراتے تھے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ڈرانا یک طرفہ نہ تھا۔ آپ جس طرح دوسروں کو آنے والی قیامت سے ڈراتے تھے، اسی طرح آپ خود بھی سب سے زیادہ اس سے ڈر محسوس کرتے تھے۔ آپ چاہتے تھے کہ لوگ دنیا میں اس طرح رہیں کہ ان کے دل میں خدا کی پکڑ کا خوف سمایا ہوا ہو۔ یہی خود آپ کی اپنی حالت بھی تھی۔ والی قیامت کو اپنے سمیت ہر ایک کا مسئلہ سمجھتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ آپ کا پیغمبر ہونا آپ کو اخروی مسئولیت سے بے نیاز بنا دے۔
انسان جب پیدا ہوتا ہے تو گویا کہ وہ فطرت کی کان (mine) سے نکل کر باہر کی دنیا میں آتا اس کے بعد وہ بڑا ہوتا ہے، اور اپنی سوچ کو عمل میں لاتا ہے۔ وہ تعلیم و تربیت کے مراحل سے گزرتا ہے۔ اس طرح پختگی کی عمر میں پہنچ کر وہ ایک باقاعدہ انسان بن جاتا ہے۔ یہ انسانی وجود کا درمیانی مرحلہ ہے۔ اس کے بعد اگر وہ اپنی عقل کو صحیح رخ پر استعمال کرے تو وہ معرفت حق کے درجے میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ وہ درجہ ہے جب کہ کوئی پیدا ہونے والا، کمال انسانیت کے مرحلے میں پہنچ کر عارف باللہ کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔