قرآن فہمی کا اسلوب
Al-Risala, June 2018, pp. 31–32
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن بلاشبہ ایک خدائی کتاب ہے۔ لیکن عملاً وہ انسانی زبان میں اتارا گیا ہے۔ انسان کے لیے پوری طرح قابل فہم ہو سکے۔ بعد کے زمانے میں قرآن کے لیے مقدس قرآن (Holy Quran) اور پَوِتر قرآن جیسے الفاظ استعمال کیے جانے لگے۔ مگر یہ اسلوب قرآن وحدیث میں کہیں بھی موجود نہیں ہے۔ یہ اسلوب بلاشبہ مضاہات (سورۃ التوبہ، 9:30) کی قبیل سے ہے۔ اسلام کا ثابت شدہ اسلوب نہیں۔ غالباً اسی ذہن کو ختم کرنے کے لیے قرآن کی 29 سورتوں کا آغاز حروف مقطعات (disjointed letters) سے کیا گیا ہے۔ حروف مقطعات کا اسلوب بتاتا ہے کہ قرآن انسانی زبان میں اتارا گیا ہے، وہ کسی ملکوتی زبان یا ملا اعلیٰ کی زبان میں نہیں ہے۔ ذہن کی وجہ سے بعد کے زمانے میں یہ سمجھ لیا گیا کہ قرآن کا مبالغہ آمیز انداز میں احترام کرنا، اور قرآن کے الفاظ کو مخارج کی کامل صحت کے ساتھ دہر الینا، اسی سے قرآن کا حق ادا ہو جاتا ہے۔ اس غیر مطلوب ذہن کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ قرآن فہمی کا عمل درست انداز میں جاری نہ رہ سکا۔ قرآن کی بہت سی آیتوں کو ہمارے علماء اور مفسرین سمجھنے سے قاصر رہے۔ کیوں کہ انھوں نے قرآن کے الفاظ کو مقدس سمجھ لیا، جن کو صرف ان کے ظاہری معنی میں لیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے قرآن میں غور وفکر کے لیے اجتہادی اسلوب کا خاتمہ ہو گیا۔
مثال کے طور پر قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ قرآن کی اس آیت میں قتال کا لفظ آیا ہے۔ اس کو لفظی معنی میں لے کر یہ سمجھ لیا گیا کہ بہت سے نبیوں نے اپنے زمانے میں مسلح قتال کیا ہے۔ حالاں کہ قتال کے ان واقعات کا کوئی ثبوت نہ حدیث میں ہے، اور نہ تاریخ میں۔
حقیقت یہ ہے کہ قتال کا لفظ اس آیت میں انسانی اسلوب کے اعتبار سے آیا ہے، یعنی شدید
مثلاً انسانی زبان میں کہا جاتا ہے کہ ہمیں اس معاملے میں فائٹ ٹوفنش ( fight to the finish) کی اسپرٹ کے ساتھ کام کرنا ہے، یا یہ کہا جاتا ہے کہ ہمیں کرپشن کے خلاف جنگ کرنا یہ تمام الفاظ شدید جدوجہد (utmost struggle) کے معنی میں ہیں، نہ کہ لفظی اعتبار سے جنگ و قتال کے معنی میں۔
یہی معاملہ حدیث رسول کے ساتھ بھی پیش آیا۔ لوگ حدیث کے کلام کو بالکل لفظی معنی میں مثلاً متعدد روایتوں میں آیا ہے کہ اللہ کا ایک اسمِ اعظم ہے، و جو آدمی اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرے، وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کے ننانوے نام ہیں۔ نے یہ ننانوے نام بطور خود متعین کر لیے، اور یہ تلاش کرنا شروع کیا کہ اس میں سے اسمِ اعظم کونسا اس قسم کی کوششوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ کیوں کہ قرآن اور حدیث سے ثابت ہے کہ لفظی معنی کے علاوہ بھی مراد ہو سکتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6937)۔ صحیح یہ ہے کہ حدیث میں مذکور اسمِ اعظم سے مراد کوئی متعین نام (name) نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی اللہ کو ایسے اسلوب میں پکارے، جو اللہ کی رحمت کو انووک (invoke) کرنے والا ہو تو ایسی دعا اللہ کے یہاں ضرور قبول ہوتی ہے۔ مثلاً کسی شخص سے ایک غلطی ہو جائے ۔ اس کے بعد اس آدمی کو اپنی غلطی کا شدید احساس ہو۔ وہ بے تابانہ طور پر سجدے میں گر پڑے، اور روتے ہوئے کہے کہ یا اللہ تو نے مجھ کو ضعیف پیدا کیا۔ اپنے اس ضعف کی بنا پر مجھ سے غلطی ہوگئی۔ اب تیرے سوا کون ہے، جو میری اس غلطی کو سنبھالے، جو مجھ کو اس غلطی کے انجام خدایا تو میرا رب ہے۔ تیرے سوا کون ہے جس سے میں امید کروں کہ وہ میری غلطی کو سنبھالے گا، اور مجھ کو میری غلطی کے انجام سے بچائے گا۔ آدمی یہ الفاظ بولے، اور اس کی آنکھیں بے تابانہ طور پر آنسو بہا رہی ہوں۔ اگر کوئی شخص اپنی تنہائیوں میں اس طرح اللہ کو پکارے۔ تو اس کا یہ پکارنا اللہ کو اسمِ اعظم کے ساتھ پکارنا ہوگا، اور عین ممکن ہے کہ اس کی پکار اللہ کے یہاں قبولیت کا درجہ حاصل کرلے۔