قرآن کی ہدایت
Al-Risala, June 2018, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ہدایت پانے کے ایک اصول کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : اِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّهِمْ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَيَقُولُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَذَا مَثَلًا ۘ يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا ۚ وَمَا يُضِلُّ بِهِ إِلَّا یعنی اللہ اس سے نہیں شرماتا کہ بیان کرے مثال مچھر کی یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی۔ پھر جو ایمان والے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ وہ حق ہے ان کے رب کی جانب سے۔ منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال کو بیان کرکے اللہ نے کیا چاہا ہے۔ اللہ اس کے ذریعے بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو اس سے راہ دکھاتا ہے۔ اور وہ گمراہ کرتا ہے ان لوگوں کو جو نافرمانی کرنے والے ہیں۔
کوئی بات ریاضیات کی زبان میں کہی جائے تو اس میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔ مذہب کا تعلق ہیومنیٹیز (humanities) سے ہے۔ اس لیے مذہب میں ہمیشہ یہ گنجائش رہتی ہے کہ آدمی کسی بات کی صحیح تاویل کر کے اس سے ہدایت پائے، یا غلط تاویل کر کے گمراہ بن جائے۔ مثلاً اگر مچھر کی مثال سے کوئی اخلاقی بات کہی جائے تو آدمی کو یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ اصل مدعا پر دھیان دے۔ ایسی حالت میں مچھر کی مثال اس کے لیے مفید سبق کا ذریعہ بن جائے گی لیکن اگر وہ غیر سنجیدہ ہو کر مچھر کا مذاق اڑانے لگے تو اس کو مچھر کی مثال سے کوئی سبق نہیں ملے گا۔ قرآن کی کسی آیت سے صحیح سبق لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر سنجیدگی ہو۔ وہ بات کو صحیح زاویے سے اگر آدمی کے اندر سنجیدگی نہ ہو تو وہ ہمیشہ بات کو غلط زاویے سے دیکھے گا، اور اس کو سبق کے بجائے مذاق کا موضوع بنا لے گا۔ ریاضیات (mathematics) میں اس قسم کی گنجائش نہیں ہوتی، لیکن مذہب اور اخلاقیات کے موضوع میں غلط تاویل کی بہت زیادہ گنجائش ہوتی ہے، اس لیے مذہب اور اخلاقیات کے موضوع پر انسان کا سنجیدہ ہونا بہت ضروری ہے۔