Al-Risala · June 2018

دو مختلف انجام

Al-Risala, June 2018, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے : اِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِه آخَرِينَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 817)۔ یعنی اللہ اس کتاب (قرآن) کے ذریعے ایک قوم کو اٹھاتا ہے، اور دوسری قوم کو گرا دیتا ہے۔ اس حدیث میں دو مختلف قوموں کا ذکر نہیں ہے، بلکہ اس میں خود ایک قوم کی مختلف دو حالتوں کا ذکر ہے۔ قوم سے مراد مسلم قوم ہے، نہ کہ کوئی غیر مسلم اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعے مسلمانوں کا عروج بھی ہوگا، اور قرآن کے ذریعے ان پر زوال کا دور بھی آئے گا۔

ایک ہی کتاب (قرآن) کس طرح دو مختلف انجام کا سبب بنتی ہے۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد قرآن کے مطالعے کے دو طریقے ہیں۔ اگر قرآن کا مطالعہ تطبیقی انداز (applied way) میں کیا جائے تو قرآن کی حامل قوم اپنے حالات میں اس سے رہنمائی پالے گی، اور اس طرح ان کے لیے ترقی کا سفر جاری رہے گا۔ اس کے برعکس، اگر قرآن کا مطالعہ غیر تطبیقی انداز (non-applied way) میں کیا جائے تو ایسے لوگوں کا حال حضرت عائشہ کی زبان میں وہی ہوگا : أُولَئِكَ قَرَءُوا، وَلَمْ یَقْرَءُوا (مسند احمد، حدیث نمبر 24609)۔ یعنی قرآن کا حامل ہونے کے باوجود وہ قرآن کے فیض سے محروم رہ گئے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے یہاں ایک مثال درج کی بار ضرور درکار اس کے لئے رو رو کر دعائیں مانگتا ہے اس وقت اس کا رابطہ خدا سے یہ پیدا ہو

Printed page