Al-Risala · January 2018

انجام دیکھ کر عمل کرنا

Al-Risala, January 2018, pp. 30–31

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام کا ایک واقعہ حدیث میں ان الفاظ میں آیا ہے: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: بارك الله للمسلمين فيك، فخصني منك بخاصة خير، قال : أراه قال : ثلاثا، قال : نعم، قال: اجلس، إذا أردت أمر افتدبر عاقبته، فإن كان خيرا فأمضه، وإن كان شرا فانته (الزهد والرقائق لابن المبارک، حدیث نمبر 41)۔ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: آپ کے ذریعہ اللہ مسلمانوں کو برکت دے۔ آپ مجھ کو اپنی طرف سے کسی خاص خیر کی نصیحت کیجیے۔ آپ نے کہا:

کیا تم نصیحت چاہتے ہو، آپ نے یہ بات غالباً تین بار کہی، آدمی نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: بیٹھ جاؤ، جب تم کوئی کام کرنا چاہو، تو تم اس کے نتیجہ پر غور کرو، اگر اس میں خیر ہو تو اس کو کرو، اور اگر وہ برا ہے تو اس سے رک جاؤ۔

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تم جو کام کرو، خوب سوچ سمجھ کر کرو۔ پہلے اس کے ہر پہلو پر غور بے لاگ انداز میں غور کر کے یہ سمجھو کہ وہ کام تمھارے لیے باعتبار انجام اچھا ہے یا برا۔ جذبات کے تحت کوئی کام شروع نہ کرو، بلکہ اپنے اقدام کے تمام پہلوؤں پر غور و فکر کرنے کے بعد اس کی طرف آگے بڑھو۔ تمھارا ہر کام گہری سوچ کا نتیجہ ہو، نہ کہ محض جذبات کا نتیجہ۔ کام کرنے کے اس طریقے کو منصوبہ بند کام کہا جاتا ہے۔ منصوبہ بند کام کا اصول یہ ہے کہ پہلے سوچنا، اور پھر کرنا۔ جو آدمی کرنے کے بعد سوچے، وہ ایک غیر دانش مند آدمی ہے۔ اور جو آدمی کرنے سے پہلے سوچے، وہ ایک دانش مند آدمی۔

یہی درست اقدام کا دانش مندانہ اصول ہے۔ آدمی اگر ذاتی زندگی گزار رہا ہو تو اس کو زیادہ مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔ لیکن جب آدمی کوئی عملی اقدام کرے تو اس کو بہت سے خارجی مسائل پیش ان خارجی مسائل کا پیشگی اندازہ کرنا، بہت ضروری ہے۔ جو آدمی خارجی مسائل کا پیشگی اندازہ کیے بغیر عملی اقدام کرے، وہ اپنے اقدام سے کچھ پائے گا نہیں۔ بلکہ اپنے نقصان میں صرف اضافہ کرنے کا سبب بنے گا۔

Printed page