فطرت کا ایک قانون
Al-Risala, June 2018, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں اجتماعی زندگی کے ایک قانون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (105: یعنی اے ایمان والو، تمھارے اوپر صرف اپنی ذمے داری ہے۔ گمراہی تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچائے گی اگر تم ہدایت پر ہو۔ تم سب کو اللہ کے پاس لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تم کو بتا دے گا جو کچھ تم کر رہے تھے۔
قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہی بات ایک اور آیت میں اس انداز میں آئی ہے: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (3:120)۔ اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، اللہ اس پر حاوی ہے۔ دونوں آیتوں کے مطالعے سے فطرت کا ایک قانون معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں آدمی خود اپنے انجام کو بھگتتا ہے۔ آدمی کا رویہ اگر صابرانہ رویہ ہو تو وہ لوگوں کی سازشوں سے خود فطرت کے قانون کے مطابق اس سے محفوظ رہے گا۔ اس کے برعکس، اگر اس کا رویہ بے صبری کا رویہ ہو تو وہ لوگوں کی سازش کا شکار ہوتا رہے گا۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ خود اپنا محاسبہ کرے ۔ دوسروں کی شکایت کرنے کے بجائے، وہ خود اپنی اصلاح کی کوشش کرتا رہے۔ ایسا آدمی یقینی طور پر دوسروں کے شر سے محفوظ رہے گا۔
دوسروں کے شر سے محفوظ رہنے کا ایک اٹل اصول ہے۔ وہ یہ کہ آپ اپنی طرف سے اشتعال انگیز کارروائی کر کے فریق ثانی کو جوابی کارروائی (retaliation) کا موقع نہ دیں۔ میں یہی سب سے بڑا اصول ہے۔ اس اصول کو ایک لفظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ اگر آپ دوسروں کے شر سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو دوسروں کو اپنے شر سے محفوظ رکھیے، دوسروں کو کبھی جوابی کارروائی کا موقع نہ دیجیے۔