Al-Risala · July 2018

عالمی تائیدِ اسلام

Al-Risala, July 2018, pp. 8–10

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ رب العالمین کا ایک منصوبہ قرآن میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (9:32)۔ یعنی وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ اپنی روشنی کو پورا کیے بغیر ماننے والا نہیں، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اس آیت میں نور (روشنی) سے مراد دینِ توحید ہے۔ قدیم تاریخ بتاتی ہے کہ اہل شرک نے ہر ممکن کوشش کی کہ دینِ توحید کو لوگوں کا دین نہ بننے دے۔ اہل شرک اپنے وقت کے اہل اقتدار سے مل کر تشدد کی حد تک دین توحید کے مخالف بن گئے۔ اللہ نے چوں کہ اس دنیا کو آزادی کے اصول پر بنایا ہے، اس لیے اللہ خود اپنے منصوبے کے مطابق، ایسا نہیں کر سکتا تھا کہ وہ لوگوں کا ہاتھ پکڑلے۔

اللہ نے اس معاملے میں مینجمنٹ کا طریقہ اختیار کیا۔ اللہ نے تاریخ کو اس طرح پنچ کیا کہ وہ تدریج کے ساتھ معاون توحید تاریخ بن گئی۔ جب کہ اس سے پہلے وہ مخالف توحید تاریخ بنی ہوئی تھی۔ اس مقصد کے لیے اللہ رب العالمین نے انسان کی آزادی کو برقرار (maintain) رکھتے ہوئے تاریخ میں ایک عمل (process) جاری کیا۔ یہ پر اس کے آخری نتیجے کے طور پر یہ تھا کہ انسان کی آزادی مکمل طور پر باقی رہے، اسی کے ساتھ ایسے امکانات پیدا ہو جائیں، جن کو اویل (avail) کر کے اہل توحید آزادانہ طور پر دین توحید کو سارے عالم میں پھیلا دیں۔ اس آیت میں اتمامِ نور کا مطلب ہے — دنیا میں دورِ شرک کے بجائے، توحید کا دور لانا۔ یہ ایک عظیم خدائی منصوبہ تھا۔ اس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالِ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ (معجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ اسلام کی تائید ایسے لوگوں سے کرے گا، جو اہل اسلام میں سے نہ ہوں گے۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ میں دور توحید کا پر اس اتنے ہمہ گیر

انداز میں چلے گا کہ نہ صرف اہل ایمان ، بلکہ غیر اہل ایمان بھی اس تاریخی عمل (historical process) کا حصہ بن جائیں گے۔ مگر خدائی منصوبے کے مطابق ، اس تاریخی انقلاب کو اس طرح نہیں لانا تھا کہ انسانی آزادی کو موقوف کر دیا جائے۔ بلکہ یہ کام منصوبہ الہی کے مطابق ، اس طرح ہونا تھا کہ انسانی آزادی بدستور برقرار رہے، اور اسی کے ساتھ تاریخ میں ایک ایسا طاقتور پر اسس جاری ہو، جو اس طرح منتہی (culminate) ہو کہ اس کی تکمیل پر دنیا میں وہ دور آئے جو اپنے ساتھ مذہبی آزادی، عالمی ذرائع ابلاغ وغیرہ لائے، جس کے نتیجے میں کسی بھی انسان کے لیے رائے کا اظہار، اور مذہب کی تبلیغ وغیرہ آسان ہو جائے۔ مگر تاریخ میں یہ انقلاب باعتبار مواقع یعنی اہل توحید کے لیے یہ موقع کھل گیا کہ اگر وہ چاہیں تو حکیمانہ منصوبے کے ذریعہ اس امکان کو پہچانیں، اور اویل (avail) کریں۔

غالباً یہی وہ حقیقت ہے، جس کی طرف ایک حدیث میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: كَانَ الرَّجُلَ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهُ فِي الأَرْضِ، فَيُجْعَلُ فِيهِ، فَيُجَاءَ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ بِاثْنَتَيْنِ، وَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُمُشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ لَحْمِهِ مِنْ عَظْمٍ أَوْ عَصَبٍ، وَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَاللَّهِ لَيُتِمَّنَّ هَذَا الأَمْرَ، حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ، لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ، أَوْ الذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ، وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3612)۔ یعنی تم سے پہلی امتوں میں سے کسی کے لیے (توحید اختیار کرنے پر) گڑھا کھودا جاتا اور اسے اس میں ڈال دیا جاتا۔ پھر اس کے سر پر آرا رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے پھر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتا۔ لوہے کے کنگھے اس کے گوشت میں دھنسا کر اس کی ہڈیوں اور پٹھوں پر پھیرے جاتے پھر بھی وہ اپنا ایمان نہ چھوڑتا۔ خدا کی قسم یہ امر بھی تکمیل کو پہنچے گا اور یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا، اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا ڈر نہیں ہوگا، یا بھیڑیے کا (خوف ہوگا) اپنی بکریوں پر، لیکن تم لوگ جلدی بازی کر رہے ہو۔

موجودہ زمانے میں یہ تاریخ اپنی آخری حد تک پہنچ چکی ہے۔ اب اہل توحید کو صرف ایک

حکمت (wisdom) کو جاننا ہے۔ وہ یہ کہ وہ جو کچھ کریں، پوری طرح پرامن (peaceful) انداز میں کریں۔ وہ کسی حال میں تشدد (violence) کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ جب تک وہ پرامن رہیں، سارے مواقع ان کے لیے کھلے رہیں گے۔ وہ صرف اس وقت ان سے چھن سکتے ہیں، جب کہ وہ اس راز کو نہ سمجھیں، اور تشدد کا طریقہ اختیار کر لیں۔

حدیث میں تائیدِ دین کی بات کسی محدود معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ نہایت وسیع معنی میں ہے۔ مثال کے طور پر رسول اللہ کے زمانے میں کعبہ میں تمام قبائل کے بت رکھے ہوئے تھے۔ اس بنا پر روزانہ وہاں لوگوں کا ایک بڑا مجمع اکٹھا ہوتا تھا۔ پیغمبرِ اسلام نے اس اجتماع کو آڈینْس (audience) کے روپ میں دیکھا، اور مکہ میں تیرہ سال تک ان مواقع (opportunities) کو دعوتی مقصد کے لیے اویل کرتے رہے۔ جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ اس زمانے میں رسول اللہ کو وہ تمام افراد ملے، جن کو اجلہ صحابہ کہا جاتا ہے۔

یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ وہ ابدی معنوں میں ایک سنتِ رسول ہے۔ ہر زمانے میں اس کو اپلائی (apply) کیا جا سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی پوری طرح مثبت سوچ والا ہو، اور کسی بھی قسم کی منفی سوچ کے بغیر حالات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ مثلاً موجودہ زمانے میں ایک کلچر رائج ہوا ہے، جس کو اجتماع کلچر (gathering culture) کہہ سکتے ہیں۔ کہیں کانفرنس کے نام پر، کہیں ٹورزم کے نام پر، کہیں میٹنگ کے نام پر، کہیں نمائش (exhibition) کے نام پر، کہیں جشن کے نام پر، کہیں فیسٹیول کے نام پر، کہیں بک فیر (book fair) کے نام پر، وغیرہ۔ یہ کلچر اتنا زیادہ عام ہے کہ ہر جگہ اور دنیا کے ہر حصے میں تقریباً روزانہ وہ بڑے پیمانے پر ہوتے رہتے ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو مکہ میں پیغمبرِ اسلام کو زیارتِ اصنام" کے نام پر جو موقع ملا تھا، اب وہ ہزاروں گنا زیادہ بڑے پیمانے پر ہر جگہ موجود ہے۔ اس طرح گویا داعی اور مدعو کی دوری ختم ہو چکی ہے۔ کو دعوت کے لیے استعمال کرنے کے مواقع پوری طرح کھلے ہوئے ہیں، شرط صرف یہ ہے کہ لوگ تشدد سے دور رہیں، اور پرامن منصوبے کے ذریعے اس کو استعمال کریں۔

Printed page