دورِ شخصیت ، دورِ استدلال
Al-Risala, July 2018, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانہ شخصیت کی عظمت (personality cult) کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانہ عقلی استدلال کا زمانہ(age of reason) ہے۔ قدیم زمانے میں ایسا ہوتا تھا کہ ایک شخص جس کو کسی وجہ سے بڑا مان لیا جائے_ لوگ اس کی باتوں کو اعتقادی طور پر درست سمجھتے تھے، اور عقل کے استعمال کے بغیر اس کی پیروی کرتے تھے۔ اب یہ دور ختم ہو گیا۔ موجودہ زمانے میں اس طرح کی شخصیتیں پیدا نہیں ہوتیں۔ شخصی صلاحیت کے اعتبار سے تو اب بھی لوگ پیدا ہو رہے ہیں، لیکن زمانے کے زیرِ اثر اب کسی شخص کو اکابر کا درجہ حاصل نہیں ہوتا۔
سائنسی انقلاب کے بعد دنیا میں عقلیت کا دور(age of reason) آیا ہے۔ مطلب عقل پرستی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ہے عقلی استدلال کی بنیاد پر کسی بات کو ماننا، اور کسی بات کو نہ ماننا۔ آج وہی تحریک کامیاب تحریک ہے جو آج کے فکری مستوىٰ اور آج کے مسلمہ استدلال کی سطح پر اپنے نظریے کی تبلیغ کرے۔ اس کے برعکس جو تحریک اکابر اور شیوخ کے حوالے کی بنیاد پر شروع کی جائے، وہ تحریک آج کے معیار کے مطابق سرے سے تحریک ہی نہیں۔ قدیم زمانے میں شخصیت پرستی کی بنا پر عقلی غور وفکر کا ارتقا (development) نہیں ہوا۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال تک یہ صورت حال باقی رہی۔ اسلام نے پہلی بار عقلی غور وفکر کا آغاز قرآن میں بار بار اس قسم کے الفاظ آئے ہیں ـــــ تدبر، تعقل، تفکر، توسم، تذکر، وغیرہ_ حتی کہ خود قرآن کے بارے میں کہا گیا ہے : كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو
لیکن بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر عملًا عقلی غور وفکر کا خاتمہ ہو گیا۔ دین میں عقلی غور وفکر کو برا سمجھا جانے لگا۔ حدیث میں عمومی معنوں میں آیا تھا: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ (ابن ماجہ، حدیث لیکن بعد کے زمانے میں طلبِ علم سے مراد صرف علم دین کی طلب قرار پایا۔
اس کا سبب بعد کے زمانے میں ہونے والا ماس کنورژن (mass conversion) تھا۔ یعنی بعد کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا کہ لوگوں نے بڑی تعداد میں اسلام قبول کیا۔ اس طرح امتِ مسلمہ میں نومسلموں کی تعداد اچانک بہت زیادہ بڑھ گئی۔ یہ لوگ اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) کو لے کر اسلام میں داخل ہوئے تھے۔ کثرتِ تعداد کی بنا پر ان کی فکری تربیت ممکن یہی نوواردین ہیں، جنھوں نے اپنے قدیم ذہن کی بنا پر عقلی غور و فکر کو اسلام کے خلاف قرار یہ ذہن اتنا زیادہ پختہ ہوگیا کہ وہ آج تک جاری ہے۔ اس سے کسی حد تک مستثنیٰ صرف وہ مسلمان ہیں، جنھوں نے موجودہ زمانے میں سیکولر اداروں میں تعلیم پائی۔
عباسی دور میں ایک طبقے کے اندر عقلی غور و فکر کا آغاز ہوا، لیکن وہ یونانی فلسفے کے زیرِ اثر ہوا تھا، اس لیے اسلام کے اصول کے اعتبار سے صحیح منہج پر قائم نہ تھا۔ اس لیے اُس وقت کے علماء اس سے متوحش ہو کر اس کے خلاف ہو گئے۔ علماء نے ان لوگوں کے خلاف شدید ردِ عمل کا اظہار کیا۔ یہاں تک کہ کہا جانے لگا کہ من طلب العلم بالكلام تزندق (البداية والنهاية، 10/194)۔ نے کلام کے ذریعے علم طلب کیا، وہ زندیق ہو گیا۔
اکیسویں صدی میں وہ وقت آ گیا ہے، جب کہ اسلام میں عقلی غور و فکر کا آغاز کیا جائے۔ غور و فکر دین سے انحراف کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین کو عقلی بنیاد (rational basis) پر پیش کیا جائے۔ اہل عقل کے فکری مستویٰ پر انھیں دین کو پہنچایا جائے تا کہ ان کا ذہن ایڈریس ہو، اور وہ اسلام پر زیادہ سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کر سکیں۔ راقم الحروف کی کتاب مذہب اور جدید چیلنج اسی قسم کی ایک کوشش ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ مختلف زبانوں میں شائع ہو چکا ہے۔ عربی زبان میں الاسلام يتحدى، اور انگریزی زبان میں گآڈارائٹرز، وغیرہ۔
کچھ مسلمانوں نے اس مقصد کے نام پر ایک تحریک شروع کی، جس کو وہ إسلامية المعرفة (Islamization of knowledge) کہتے ہیں۔ مگر یہ تحریک صحیح خطوط پر نہیں۔ معاملے میں اصل کام اسلام کو جدید علم کی بنیاد پر پیش کرنا ہے، نہ کہ جدید علم کو اسلامائز کرنا۔