دینِ خداوندی کے دو دور
Al-Risala, July 2018, pp. 15–18
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک تاریخی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: سنُريهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اورانفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔ اور کیا یہ بات کافی نہیں کہ تیرا رب ہر چیز کا گواہ ہے۔ یہ سورہ ایک مکی سورہ ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی اس آیت میں کسی وقتی صورت حال کا ذکر نہیں، بلکہ اس میں دینِ خداوندی کی پوری تاریخ کا ایک اجمالی بیان ہے۔ رسول اور اصحابِ رسول کی دینی جدوجہد کسی وقتی نشانی کے لیے نہیں تھی، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ انسانی تاریخ میں ایک ایسا عمل (process) جاری کیا جائے، جو اللہ کے دین کے کامل اظہار کے ہم معنی بن جائے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ اللہ کا دین تمام دوسرے دینوں پر غالب ہوجائے (التوبة، 9:33)۔ تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اللہ کا لایا ہوا دین ساتویں صدی عیسوی میں شرک کے دین پر غالب آ گیا۔ رسول اور اصحابِ رسول کی جدو جہد سے شرک کے دین کا دبدبہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ اب اگر کہیں شرک کا دین باقی ہے تو وہ کچھ لوگوں کے اندر محض ذاتی عقیدے کی سطح پر باقی ہے۔ اجتماعی غلبے کی شکل میں کہیں بھی شرک کا دین باقی نہیں۔
لیکن بعد کے زمانے میں دینِ الحاد (atheism) وجود میں آیا۔ موجودہ زمانے میں یہی دینِ الحاد نظریاتی اعتبار سے ایک غالب دین کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی واقعہ ہے جس کی بنا پر قرآن کی مذکورہ آیت (فصلت، 41:53) میں مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی دینِ شرک کا خاتمہ رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں ہوا، اور دینِ الحاد کا خاتمہ بعد کے زمانے میں ہوگا۔
قرآن میں اظہارِ دین (التوبة، 9:33) کو پیغمبرِ اسلام کا نشانہ بتایا گیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نشانے کی تکمیل کے دو دور ہیں۔ پہلا دور روایتی دور (traditional age) تھا، جس کا اتمام سائنسی انقلاب سے پہلے وقوع میں آیا۔ اس دور میں رسول اور اصحابِ رسول کی جدوجہد سے ایسے حالات پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں تاریخ میں ایک نیا پر اسس شروع ہوا، جو موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب تک پہنچا۔ دوسرا دور آفاق و انفس کی نشانیوں کی دریافت (فصلت، 41:53) کے بعد کا دور ہے، جو پچھلے چار سو سال کے اندر سائنسی انقلاب کے ذریعے پیش آیا۔ اسی سائنسی انقلاب کو قرآن میں آفاق و انفس کی نشانیوں کے ظہور سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لیے اس دوسرے دور کو قرآن (فصلت، 41:53) میں مستقبل کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ تبیینِ حق کے دو دور ہیں۔ ایک ہے روایتی دور میں تبیینِ حق، اور دوسرا ہے سائنسی دور میں تبیینِ حق۔ اس دوسرے دور میں وہ علمی فریم ورک (scientific framework) وجود میں آیا، جس کو استعمال کر کے اعلیٰ معرفت حاصل کی جائے، اور دینِ الحاد کا نظری طور پر خاتمہ کر دیا جائے۔ تبیین حق کے یہ وسائل اکیسویں صدی میں آخری طور پر حاصل ہو چکے ہیں۔ اب یہ پوری طرح ممکن ہو گیا ہے کہ ان نئے امکانات کو استعمال کر کے دینِ الحاد کا نظری خاتمہ کر دیا جائے۔ وہ دور ہے جس کی خبر حدیث میں شہادتِ اعظم کے الفاظ میں دی گئی ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں : هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ (صحيح مسلم، حدیث نمبر 2938)۔ حدیث میں بعد کے زمانے میں پیدا ہونے والے ایک عظیم فتنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ کے لیے حدیث میں فتنة دهماء (ابوداؤد، حدیث نمبر 4242) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ دہیماء کا مطلب ہے، سیاہ فتنہ (black days)۔ یعنی ایسا زمانہ جب کہ کچھ دکھائی نہ دے۔ ناحق کو الگ کر کے دیکھنا نا ممکن ہو جائے۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمانے ایک ساتھ آئیں گے۔ یعنی ایک طرف سائنسی دریافتوں سے وہ مواقع کھلیں گے، جب کہ دینِ الحاد کو مغلوب کر کے اسلام کے دوسرے دور
(تبیین ثانی) کو مکمل کیا جائے۔ لیکن عین اسی زمانے میں اہل باطل ایسے حالات پیدا کر دیں گے جو روشن دور کو عملاً تاریک دور بنا دیں گے۔ لوگوں کے لیے صحیح اور غلط میں تمیز کرنا ممکن نہ رہے اس بنا پر لوگوں کے لیے یہ موقع نہ ہوگا کہ وہ پیدا شدہ مواقع کو استعمال کر کے حق کی تبیین ثانی کے عمل کو مکمل کریں۔
اکیسویں صدی میں یہ فتنه دَهماء (تاریک فتنه) آخری طور پر ظاہر ہو چکا ہے۔ زمانے میں مسلمانوں کے اندر بظاہر بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ سرگرمیاں اندھیرے میں چھلانگ کے ہم معنی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں، میں امت مسلمہ کا ایک فرد ہوں، لیکن ان کو یہ نہیں معلوم کہ وہ جس زمانے میں ہیں، وہ زمانہ کیا ہے۔
موجودہ زمانہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے تبیین حق کا زمانہ ہے۔ یعنی وہ زمانہ جس میں امکانی طور پر سچائی کو پوری طرح کھول دیا گیا ہے ۔ یہ معلوم کرنا آخری حد تک ممکن ہو گیا ہے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس طرح بے خبری کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں، جیسے کہ وہ اندھیرے میں بھٹک رہے ہوں۔
غالباً یہی وہ زمانہ ہے جس کی حدیث میں ان الفاظ میں خبر دی گئی ہے کہ اس زمانے میں الْأَئِمَّةُ الْمُضِلُّونَ (مسند احمد ، حدیث نمبر 27485) ظاہر ہوں۔ یعنی گمراہ کرنے والے رہنما ۔ کرنے والے لوگ کون ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو امت کو غلط نشانے کی طرف دوڑا دیں اس دور میں اصل کرنے کا کام تو یہ ہوگا کہ نئے امکانات کو دریافت کر کے لوگوں کو اعلیٰ معرفت پر کھڑا کیا جائے۔ مگر وہ یہ کریں گے کہ امت کو یہ بتائیں گے کہ ساری دنیا تمھاری دشمن ہے، ان اس طرح وہ امت کو منفی سوچ کا کارخانہ بنا دیں گے۔
کچھ لوگ امت کو فرضی فخر (false pride) پر کھڑا کریں گے۔ قدیم یہود کے اندر بگاڑ کے دور میں ایک کلچر پیدا ہوا، جس کو جوئش سپرامیزم (Jewish supremacism) کہا جاتا ہے۔
یعنی یہودی برتری کا تصور۔ یہ لوگ امت کے افراد میں مسلم برتری (Muslim supremacism) کا کلچر جاری کر دیں گے۔ وہ مسلمانوں کو فرضی فخر کی غذا دیں گے، جس سے لوگ وقتی طور پر خوش ہو لیکن انھیں دینِ خداوندی کے احیا کا کوئی مثبت نشانہ نہیں ملے گا۔
کچھ لوگ مسلمانوں کو یہ سبق دیں گے کہ تمھارا کام یہ ہے کہ تم ساری دنیا میں اسلام کی عظمت کا جھنڈا لہراؤ اس طرح وہ مسلمانوں کے اندر ایک ایسا ذہن پیدا کر دیں گے جو اپنے اعلان کے اعتبار سے تو اسلامی ذہن ہو گا، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے صرف تخریبی ذہن۔ ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 145)۔ یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، اور دوبارہ وہ اجنبی ہو جائے گا، تو مبارک ہیں ایسے اجنبی لوگ۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بعد کے زمانے میں کوئی دور ایسا آئے گا، جب کہ اسلام کا وجود باقی نہ رہے۔ اسلام کے اجنبی ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے اصل ماڈل کا لوگوں کے لیے اجنبی ہو جانا۔ یعنی اس دور میں اسلام بظاہر پوری طرح موجود ہو گا، لیکن اسلام کی اصل اسپرٹ باقی نہ رہے گی۔ اس زمانے میں اسلام اپنی اسپرٹ کے اعتبار سے مفقود ہو گا، نہ کہ اپنی شکل کے اعتبار سے۔
غالباً اس حدیث کا ایک مطلب یہ ہے کہ بعد کے دور میں لوگ دین کے خود ساختہ ماڈل کو لے کر سرگرم ہو جائیں گے۔ اس لیے ایسی حالت میں جب ان کے سامنے دین کا اصل ماڈل پیش کیا جائے گا تو وہ ان کو اجنبی معلوم ہوگا۔ اس وقت جو لوگ اجنبیت کے پردے کو پھاڑ کر اسلام کے اصل ماڈل کو پہچانیں، اور پوری طرح اس کا ساتھ دیں، وہ اللہ کے نزدیک قابلِ مبارک باد لوگ ہوں گے۔ موجودہ مسلمانوں کو اگر مجھے ایک مشورہ دینا ہو تو میں کہوں گا—جذباتی کارروائیوں سے بچئے اور سوچے سمجھے عمل کا طریقہ اختیار کیجیے، اور پھر کامیابی آپ کے لیے اتنا ہی یقینی بن جائے گی جتنا کہ آج کی شام کے بعد کل کی صبح کو سورج کا نکلنا۔