حقیقت پسندانہ مزاج
Al-Risala, January 2018, pp. 33–34
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام نے اپنی امت کو ایک حکمت کی بات ان الفاظ میں بتائی: لا تطروني، كما أطرت النصارى ابن مريم، فإنما أنا عبده، فقولوا عبد الله، ورسوله (صحيح البخاري، حديث نمبر 3445)۔ یعنی میرا بیان بڑھا چڑھا کر نہ کرو، جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کا بیان کیا۔
میں تو صرف اس کا بندہ ہوں، اس لئے یہی کہا کرو کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ کسی کا ذکر بڑھا چڑھا کر کرنا، یہ ایک ہلاکت خیز کلچر ہے۔ یہ کلچر پہلے پیغمبر سے شروع ہوتا اس کے بعد وہ ایک عام اسلوب بن جاتا ہے۔ اس سے قوموں میں حقیقت پسندانہ سوچ کا مزاج ختم ہو جاتا ہے۔ لوگوں کی سوچ ، لوگوں کی منصوبہ بندی ، ہر چیز غیر حقیقت پسندانہ ہو کر رہ جاتی اس لیے پیغمبر اسلام نے اس کلچر سے اپنی امت کو شدت کے ساتھ روکا۔
یہ کلچر اس طرح آتا ہے کہ لوگ پہلے پیغمبر کو شہنشاہ کونین، اور سرور دو عالم جیسے مبالغہ آمیز انداز میں ذکر کرتے ہیں۔ پھر یہ کلچر عام ہو کر دوسرے مفروضہ بڑوں کے لیے بولا جانے لگتا مثلاً امام، اکابر، شیخ العالم اور قائم الزماں، سید الملّت، وغیرہ۔ یہ سب قصیدہ خوانی کی زبان ہے۔ اور قصیدہ خوانی کی زبان ہمیشہ لوگوں کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) کا عمل روک دیتی لوگ اجتہاد کے بجائے تقلید کا طریقہ اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے اندر ماضی پر فخر اور حال پر قناعت کا مزاج چھا جاتا ہے۔ ایسے لوگ دوبارہ کوئی بڑا کام کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ مزاج وہی بن جاتا ہے جس کو شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا— کیا قدیم شعراء نے پیوند کے برابر کوئی جگہ چھوڑی ہے (هل غادر الشعراء من متردم)۔