Al-Risala · July 2018

فقہ الاقلیات

Al-Risala, July 2018, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانے میں مسلم رہنماؤں نے ایک نئی اصطلاح ایجاد کی ہے، جس کو فقہ الاقلیات کہا فقہ الاقلیات کی تعریف یہ کی جاتی ہے: الأحكام الفقهية المتعلقة بالمسلم الذي يعيش خارج بلاد الإسلام۔ یعنی وہ فقہی احکام جو اس مسلمان سے متعلق ہیں، جو اسلامی ممالک سے باہر رہتا ہے۔ فقہ الاقلیات کی اصطلاح ایک مبتدعانہ اصطلاح ہے۔ قرآن و حدیث میں اس قسم کی کوئی اصطلاح موجود نہیں۔ ’’فقہ الاقلیات‘‘ کا تصور مسلمانوں کے لیے غیر ضروری طور پر دوسری قوموں کے ساتھ نارمل طریقے پر رہنے میں مانع بن جاتا ہے۔ مسلمان دہری شخصیت کے ساتھ رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہی چیز ہے جس کو منافقت کہا جاتا ہے۔ جدید دنیا میں ایک مس فٹ کمیونٹی (misfit community) بن کر رہ جاتے ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ غیر مسلم ریاست اور مسلم ریاست کی تقسیم بذات خود بے بنیاد ہے۔ کو ساری دنیا میں ایک ہی ذہن کے ساتھ رہنا ہے۔ وہ یہ کہ سارے لوگ انسان ہیں، اور ساری دنیا دار مسلمانوں کو دنیا میں اس طرح رہنا ہے، جیسے کہ وہ اپنے بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ رہ یہی حقیقت ایک حدیث رسول سے واضح ہوتی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: تمام انسان آدم کی اولاد ہیں، اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3955)۔ قرآن و حدیث کے مطالعے سے مسلمانوں کے لیے جو طرز زندگی ثابت ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہر ماحول میں یہ دیکھنا ہے کہ وہ کون سی روش ہے، جس کو وہ غیر نزاعی طور پر اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ ہر ماحول میں زندگی کا غیر نزاعی ماڈل دریافت کریں، اور جس ماڈل کو اختیار کرنے میں نزاع پیدا ہوتی ہو، اس کو چھوڑ دیں، خواہ مستقل طور پر یا عارضی طور پر۔ لیے اصل معیار یہ ہے کہ جہاں بھی ہوں، ٹکراؤ یا نزاع کو اوائڈ کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ بلاشبہ مسلمانوں کے لیے ایک مسنون ماڈل ہے، جو اسوۂ رسول پر قائم ہے۔ لیکن اس مسنون

ماڈل میں اصل چیز دعوت الی اللہ ہے، کوئی دوسری چیز اس مسنون ماڈل کا ابدی حصہ نہیں۔ پر لازم ہے کہ وہ اپنے عمل کی پلاننگ اس طرح کریں کہ وہ جہاں بھی ہوں، دعوت الی اللہ کا پیس فل کام مسلسل طور پر جاری رہے۔ جو روش دعوت الی اللہ کے کام کو موقوف کر دے، یا دعوت الی اللہ کے کام میں رکاوٹ ڈالنے والی ہو، وہ مسلمانوں کو مکمل طور پر چھوڑ دینا ہے۔ یہی مطلب ہے قرآن کی آیت کا کہ وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ (74:5)۔ یعنی ڈرٹی پریکٹس (dirty practice) کو چھوڑ دو۔ رسول اللہ نے جو طریقہ مکی اور مدنی دور میں یکساں طور پر اختیار کیا، اس کو دیکھ کر اس کو سمجھا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ رجز سے مراد نزاعی طریقہ ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ نزاعی طریقہ کو چھوڑ دو تا کہ دعوت الی اللہ کا کام پرامن اور معتدل انداز میں جاری رہے۔

اس اصول کے تحت پیغمبر اسلام نے مکے میں بھی اور مدینے میں بھی یکساں طور پر عمل کیا۔ آپ کا اصل گول دعوت الی اللہ تھا۔ جو کام آپ کے دعوتی مشن میں رکاوٹ ڈالے، وہ آپ کے لیے رُجز کی حیثیت رکھتا تھا۔ مثلاً اس وقت مکہ کو بت پرستی کا مرکز بنا دیا گیا تھا۔ کعبہ میں تقریباً 360 بت رکھ دیے گئے تھے۔ لیکن آپ نے ان بتوں کے خلاف براہ راست کوئی تحریک نہیں چلائی۔ ان کو نظر انداز کرتے ہوئے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھا۔ اس اصول کے معاملے میں آپ اس آخری حد تک پہنچے کہ جب آپ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو آپ نے تقریباً سولہ مہینے تک یہود کے قبلے کو اپنا قبلہ بنا لیا۔ تاکہ دعوت الی اللہ کے کام کا تسلسل اسمود (smooth) طور پر جاری رہے۔ اہل اسلام کے لیے نہ کوئی اقلیتی فقہ ہے، اور نہ کوئی اکثریتی فقہ۔ اہل اسلام کو ہر جگہ یہ کرنا ہے کہ وہ سیاسی اور غیر سیاسی نزاع سے پرہیز کریں۔ وہ امن (peace) کو اصل اجتماعی اصول قرار دے کر معتدل انداز میں زندگی گزاریں۔ وہ عقیدہ اور عبادت، اور اخلاق کے آزاد دائرے میں اپنے آپ کو اسلام کی روش پر قائم کریں، اور وقت کے نظام سے ٹکراؤ کو اپنے لیے شجر ممنوعہ سمجھتے ہوئے زندگی گزاریں، وہ أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052) کے فارمولے پر عمل کریں۔

Printed page