منصوبہ تخلیق
Al-Risala, July 2018, pp. 25–26
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کے منصوبہ تخلیق (creation plan) کا اصل ماخذ قرآن ہے۔ قرآن گویا اس منصوبہ تخلیق کا مستند متن (authentic text) ہے۔ سائنس تخلیق کے مطالعے کا علم ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ سائنس اس قرآنی متن کی کمنٹری (commentary) ہے۔ یہ کمنٹری وہی چیز ہے، جس کو حدیث رسول میں تائید دین بذریعہ غیر اہل دین کا نام دیا گیا ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)
فلکیاتی سائنس (astronomy) کی تحقیق کے مطابق کائنات کا آغاز تقریباً 13 بلین سال پہلے بگ بینگ (Big Bang) سے ہوا۔ خلا (space) میں اچانک ایک کاسمک بال (cosmic ball) ظاہر ہوا۔ اس کاسمک بال کے اندر بہت تیز دھما کا ہوا۔ سائنس داں اس کو بگ بینگ کا نام اس کاسمک بال کے اندر وہ تمام پارٹیکل موجود تھے، جن سے موجودہ کائنات بنی ہے۔ دھماکے کے بعد کاسمک بال کے تمام پارٹیکل روشنی کی اسپیڈ سے بھی زیادہ تیز رفتار کے ساتھ خلا میں بکھر یہ پارٹیکل اگر اسی طرح سفر کرتے رہتے اور خلا کی وسعتوں میں بکھر جاتے تو کائنات وجود میں نہ مگر ایک سیکنڈ کے اندر پارٹیکل کی رفتار کم ہوگئی۔ اس طرح پارٹیکل جمع ہونا شروع ہوئے، اور پھر تمام ستارے اور سیارے اور کہکشائیں وجود میں آئیں۔ سائنسی معلومات کے مطابق، پارٹیکل کے اجتماع سے بننے والی اس دنیا کو چھ دوروں (periods) میں تقسیم کیا جاسکتا ہے: है: (1) بگ بینگ (Big Bang) (2) سولر بینگ (Solar Bang)
(3) واٹر بینگ (Water Bang) (4) پلانٹ بینگ (Plant Bang)
(5) اینمل بینگ (Animal Bang) (6) ہیومن بینگ (Human Bang)
تخلیق کائنات کے آخری مرحلہ میں زمین پر وہ حالات پیدا ہوئے جن کو لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ ایک سائنسداں نے درست طور پر کہا ہے کہ پوری
کائنات انسان کے لیے کسٹم میڈ کائنات (custom-made universe) ہے۔ اس کے بعد سیارۂ ارض (planet earth) پر خدا نے آدم (انسان کو پیدا کیا، اور آدم کے جوڑے حوا اس کے بعد مختلف احوال سے گزرتے ہوئے زمین پر انسان کی تاریخ بننا شروع خدا نے انسان کو کامل آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا تھا۔ لیکن اسی کے ساتھ انسانی تاریخ کو مینج (manage) کرنے کا کام خدا نے اپنے کنٹرول میں رکھا۔ تاریخ کو مینج کرنے کا کام اس طرح ہوا کہ تاریخ مطلوب رخ پر سفر کرے، وہ مطلوب رخ سے بھٹک کر ڈی ریل (derail) نہ یہ خدائی منصوبہ اس طرح زیرِ عمل لایا گیا کہ تاریخ کا سفر مطلوب رخ پر جاری رہے، اور اسی کے ساتھ انسانی آزادی بھی پوری طرح برقرار رہے۔
God decided to manage history while maintaining human انسانی تاریخ کو مینج کرنے کا یہ کام طویل مدت کے اندر مختلف صورتوں میں انجام پایا، جس کے بنیادی اجزاء غالباً وہی ہیں جن کو آنے والی سطروں میں بیان کیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ مینجمنٹ کا مقصد تاریخ کو کنٹرول کرنا نہیں تھا، بلکہ ہر موڑ پر تاریخ کوری ڈائرکشن (redirection) دینا تھا، تاکہ تاریخ کو ٹوٹل ڈی ریلمنٹ (total derailment) سے بچایا جاسکے۔ تاریخ کو مینج کرنے کا یہ کام نارمل کورس میں نہیں ہوا، بلکہ اس کو جس میتھڈ (method) کے ذریعے کیا گیا، اس کو شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کہا جاسکتا ہے۔