Al-Risala · July 2018

انسانی تاریخ کی ابتدا

Al-Risala, July 2018, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن اور بائبل کے مطابق آدم اور حوا کو پیدائش کے بعد سیارۂ ارض پر بسایا گیا۔ ان کی نسل دھیرے دھیرے دجلہ اور فرات کے درمیان اس مقام پر مرتکز ہوگئی، جس کو میسوپوٹامیا (Mesopotamia) کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں سفر کی سہولتیں موجود نہ تھیں۔ اس لیے لمبے عرصے تک آدم کی نسل اسی علاقے میں آباد رہی۔ لیکن آبادی کا یہ اجتماع خالق کے نقشے کے مطابق نہ خالق کو مطلوب تھا کہ آدم کی نسل محدود رقبے سے نکلے، اورپورے کرۂ ارض پر پھیل جائے۔

مدت میں آدم کی نسل میں جمود آچکا تھا۔ ان کی نسلوں کے درمیان متفرق قسم کی برائیاں پیدا ہو چکی اس وقت خدا نے ان کے درمیان پیغمبر نوح کو بھیجا تا کہ وہ ان کو صحیح رہنمائی دیں۔ جمود میں وہ اتنے زیادہ کنڈیشنڈ ہو چکے تھے کہ کچھ افراد کے سوا ان کی اکثریت نے پیغمبر نوح کی بات کو اختیار نہیں کیا۔

اس لیے خدا نے یہ کیا کہ اس علاقہ میں ایک بڑا طوفان (great flood) آیا۔ میں ان کے پیغمبر نوح نے ایک بڑی کشتی تیار کی۔ پیغمبر نوح نے اس ابتدائی انسانی نسل کے منتخب افراد کو اس کشتی پر سوار کیا۔ اس کے بعد یہ کشتی طوفان کے بہاؤ کے تحت چلتی رہی۔ یہاں تک کہ وہ جودی پہاڑ پر پہنچ کر رک گئی (ھود، 11:44)۔ یہ پہاڑ موجودہ ترکی کے ساحلی علاقے پر واقع ہے۔ آدم کی نسل جودی پہاڑ کے علاقے میں اتری اور پھر دھیرے دھیرے 3 براعظموں میں پھیل گئی، یعنی ایشیا، یورپ اور افریقہ۔

Printed page