Al-Risala · July 2018

ڈیزرٹ تھراپی

Al-Risala, July 2018, pp. 27–28

By Maulana Wahiduddin Khan

آدم کی یہ نسل توالد و تناسل کے ذریعے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ دوبارہ ان کے اندر جمود ان کے اندر فطرت کی پرستش (nature worship) کا کلچر پھیل گیا۔ خاص طور پر سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش۔ اس وقت پیغمبر ابراہیم ان کی ہدایت کے لیے بھیجے انھوں نے لمبی مدت تک تبلیغ کی کوششیں جاری رکھی۔ ان کی کوششوں کے نتیجہ میں قوم کے کچھ افراد نے اصلاح قبول کی۔ مگر قوم کی اکثریت بگاڑ کے راستے پر قائم رہی۔ اس وقت خدا کی ہدایت کے تحت پیغمبر ابراہیم نے اپنے کام کی نئی پلاننگ کی۔ چند افراد کے ایک چھوٹے گروپ کو لے کر عراق سے ہجرت کی۔ یہ قافلہ 3 افراد پر مشتمل تھا، پیغمبر ابراہیم، ان کی بیوی ہاجرہ، اور ان کے بیٹے اسماعیل۔ یہ لوگ عراق سے ہجرت کر کے عرب کے اس مقام پر آئے، جہاں اب مکہ واقع ہے۔ اُس وقت یہ پورا علاقہ ایک صحرائی علاقہ تھا، یعنی ایک غیر اس وقت خالق کا یہ منصوبہ ہوا کہ تمدن سے دور اس علاقہ میں ایسی قوم تیار کی جائے جو

فطرت کے ماحول میں پرورش پائے، اور اس وقت کے تمدنی بگاڑ سے محفوظ رہے۔ یہ ایک صحرائی اس کو اس اعتبار سے ڈیزرٹ تھراپی (desert therapy) کہا جاسکتا ہے۔ اس سادہ ماحول میں اس قوم کے اندر فطری طور پر توالد وتناسل کا عمل شروع ہوا، جس کے ذریعے اس قوم میں اضافہ ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ تقریباً ڈھائی ہزار سال میں ایک نسل بن کر تیار ہوگئی، جس کو بنو اسماعیل کہا جاتا ہے۔ یہ نسل ایک نہایت جان دار نسل تھی، جس کو ایک مغربی مفکر نے نیشن آف ہیروز (a nation of heroes) کا نام دیا ہے۔

Printed page