جدید تہذیب کا آغاز
Al-Risala, July 2018, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
صلیبی جنگوں میں شدید شکست کے بعد یورپ کی مسیحی قوموں میں ایک نئی سوچ پیدا ہوئی۔ اس سوچ کو ایک مبصر نے اسپرچول کروسیڈس (spiritual crusades) کا نام دیا ہے۔ جنگوں میں ناکامی کے بعد یورپ کی مسیحی قوموں میں نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کا دور آیا۔ سے مسیحی قوموں کا ذہن ٹرگر (trigger) ہوا۔ اس سے ان کے اندر نئی سوچ پیدا ہوئی۔ یہ سوچ پیدا ہوئی کہ ہم جنگ کے میدان میں مسلمانوں سے نہیں جیت سکتے۔ اس لیے اب ہمیں اس معاملے میں
نئی پلاننگ کرنا چاہیے۔ اس طرح دھیرے دھیرے یہ ہوا کہ مسیحی قوموں کے اندر جنگ کے میدان کے بجائے بڑے پیمانے پر فطرت (nature) کا میدان مطالعے کا موضوع بن گیا۔ دھیرے مکمل طور پر فطرت کے رموز کو دریافت کرنے میں مشغول ہوگئے۔ ان دریافتوں کے بعد دھیرے دھیرے دنیا میں وہ دور آیا، جس کو ٹکنالوجی کا دور (age of technology) کہا جاتا اس پر اس کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی قو میں دنیا کی غالب قو میں بن گئیں ۔ یہ واقعہ کسی سازش کے تحت نہیں ہوا، بلکہ ایک فطری عمل (natural process) کے تحت پیش آیا۔ ٹکنالوجی کی اسی دریافت کا یہ نتیجہ تھا کہ جدید تہذیب (modern civilization) وجود صنعتی انقلاب (industrial revolution) کا دور دنیا میں آیا۔ ٹکنالوجی کی صورت میں ایک عظیم خزانہ نیچر میں چھپا ہوا تھا، وہ سب دریافت ہوا، اور آخر کار یہ دنیا ایک نئے دور میں داخل ہوگئی، جس کو سائنسی تہذیب کا دور کہا جاتا ہے۔