Al-Risala · July 2018

دو عالمی جنگیں

Al-Risala, July 2018, pp. 30–33

By Maulana Wahiduddin Khan

ترقیات کے نتیجے میں فطری طور پر قوموں میں رقابت (rivalry) شروع ہوگئی۔ رقابت نے بڑھتے بڑھتے عالمی جنگ کی صورت اختیار کرلی۔ چنانچہ بیسویں صدی میں دو بڑی جنگیں پیش آئیں، جن کو پہلی عالمی جنگ (1914-1918) اور دوسری عالمی جنگ (1945-1939) کہا جاتا ہے۔ تاریخ کے دوسرے بڑے واقعات کی طرح ان جنگوں میں بھی فطرت کے اسباب اپنا کام کر رہے تھے، اور اسی کے نتیجے میں دونوں عالمی جنگیں پیش آئیں۔ لیکن تاریخ کے دوسرے منفی واقعات کی طرح ان جنگوں کا بھی براہ راست طور پر کوئی مثبت نتیجہ نہ نکلا۔ اس کے نتیجے میں دنیا میں فطری طور پر ایک نئی سوچ پیدا ہوئی۔ وہ یہ کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اس تجرباتی سوچ کے تحت انسانی تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہوگئی۔ اس دور کو دور جنگ کے بجائے دور امن کا نام دیا جاسکتا ہے۔

دونوں عالمی جنگوں کا نتیجہ بتاتا ہے کہ ان جنگوں میں کسی بھی قوم کو کوئی بھی حقیقی کامیابی حاصل

نہیں ہوئی ۔ ان جنگوں میں اگر کسی کو جیت ہوئی تو اس کی جیت بھی پرک وکٹری ( pyrrhic victory) کے ہم معنی تھی۔ مثلاً برطانیہ بظاہر اس جنگ میں کامیاب ہوا، لیکن جنگ کے نتیجے میں وہ اتنا زیادہ کمزور ہو گیا کہ اس کو اپنے ایشیائی مقبوضات سے دستبردار ہونا پڑا، وغیرہ۔ عالمی جنگوں کے بعد فطری اسباب کے تحت قوموں کے اندر نئی سوچ جاگی۔ انھوں نے جنگ کے طریقے کے بجائے امن کے طریقے میں کامیابی کے راستے کو تلاش کیا، اور آخر کار اس تلاش میں وہ کامیاب ہوئے۔ عالمی جنگوں کا نتیجہ یہ تھا کہ دنیا میں پہلی بار اقوام متحدہ کی صورت میں مبنی بر امن عالمی اتحاد کا دور شروع ہوا۔ دنیا کی تمام قوموں کے اتفاق سے یہ مان لیا گیا کہ کسی مقصد کے حصول کے لیے اب جنگ کا طریقہ ایک متروک طریقہ ہوگا۔ تمام قوموں نے انسان کی فکری آزادی کو عالمی اصول (universal norm) کے طور پر تسلیم کر لیا۔

دور امن کا مظاہرہ (demonstration)

دوسری عالمی جنگ کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ مختلف قوموں نے عالمی دباؤ کے تحت اپنی تعمیر نو کا پر امن منصوبہ شروع کیا، اور واضح طور پر اس میں کامیابی حاصل کی۔ اس طرح عملی طور پر یہ ثابت ہو گیا کہ جنگ کے نتیجے میں جو چیز ملتی ہے، وہ صرف بربادی ہے۔ اس کے برعکس، مبنی بر امن منصوبہ یقینی طور پر کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کی جو تنظیم نو ہوئی، یہ اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ کو مجبور کن حالات میں اپنے زیر قبضہ علاقوں کو چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد برطانیہ نے پر امن بنیادوں پر اپنی تعمیر نو کا منصوبہ بنایا۔ اس نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے نئے نئے میدان دریافت کیے۔ مثلاً ایجوکیشن اور ٹورزم، وغیرہ۔ اس پر امن منصوبہ بندی کے ذریعے برطانیہ نے دوبارہ وہ سب کچھ حاصل کر لیا، جس کے لیے پہلے بے فائدہ طور پر جنگ اور فتوحات کا طریقہ اختیار کیا جاتا تھا۔

یہی معاملہ یورپ کے دوسرے ملک فرانس کا ہوا۔ فرانس میں جنرل ڈیگال کے اقتدار کا دور

اس نے محسوس کیا کہ نو آبادیاتی نظام فرانس کے لیے صرف کمزوری کا سبب بنا ہے۔ کالونیوں میں فرانس کو مسلسل طور پر متشددانہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس متشددانہ مزاحمت کا نتیجہ آخر کار یہ ہوا کہ فرانس نیوکلیئر سائنس اور ترقیاتی دوڑ میں دوسری قوموں سے پیچھے ہو گیا۔ جنرل چارلس ڈیگال کی قیادت میں فرانس نے اپنے تمام افریقی مقبوضات کو یک طرفہ طور پر چھوڑ دیا۔ اس کے بعد فرانس کو یہ موقع ملا کہ وہ اپنی اقتصادیات کو پر امن منصوبے کے تحت از سر نو منظم نتیجہ بتاتا ہے کہ فرانس اس نئی منصوبہ بندی کے معاملے میں پوری طرح کامیاب رہا۔ آج ہوابازی (aviation) کے معاملے میں فرانس امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ اس سے پہلے فرانس اس معاملے میں بہت پیچھے تھا۔

یہی معاملہ جرمنی کا ہوا۔ دوسری عالمی جنگ میں جرمنی اس عزم کے ساتھ شامل ہوا تھا کہ وہ پورے یورپ کا قائد بنے گا۔ لیکن دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ اس طرح ہوا کہ جرمنی یورپ کا سب سے کمزور ملک بن گیا۔ ان جنگوں کے نتیجے میں جرمنی نے اپنے جغرافی رقبے کا تقریباً ایک تہائی حصہ دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی نے اپنی نئی منصوبہ بندی شروع کی۔ یہ منصوبہ بندی اپنی نوعیت میں بڑی عجیب تھی، یعنی باقی ماندہ جرمنی (remaining part of Germany) کی بنیاد پر اپنی تعمیر نو کرنا۔ یہ شاید تاریخ میں ایک انوکھی منصوبہ بندی تھی۔ یہ منصوبہ بندی کامیاب رہی، اور آج جرمنی یورپ کی نمبر ایک طاقت بنا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ اس نے اپنے کھوئے ہوئے جغرافی رقبے کو دوبارہ کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیا۔

اسی قسم کی انقلابی مثال جاپان میں پائی جاتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان بظاہر دنیا کا سب سے زیادہ برباد ملک بن چکا تھا۔ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ جاپان کو نیوکلیئر بمباری کا سامنا مگر جاپان کی بربادی نے جاپان کے مدبرین کے اندر نئی سوچ پیدا کی۔ اس نا قابل برداشت حادثے کو انھوں یکسر بھلا دیا۔ جاپان کےمدبرین نے اس منصوبہ پر اپنی قوم کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ اگر امریکا نے 1945 میں ہمارے ہیرو شیما اور ناگاساکی کو تباہ کیا تھا تو اس سے پہلے 1941 میں

ہم امریکا کے پرل ہاربر کو تباہ کر چکے تھے۔ اس طرح معاملہ برابر ہوگیا۔ ماضی کو بھلاؤ، اور مستقبل کی اس طرح جاپان کے ذریعے یہ مثال قائم ہوئی کہ کس طرح بربادی کے بعد نئی پلاننگ کے ذریعے دوبارہ ایک بڑی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ گویا حالات کی زبان تھی، اور تاریخ میں خالق کا مینجمنٹ اسی طرح حالات کے دباؤ کے تحت اپنا کام کرتا ہے۔

Printed page