Al-Risala · January 2018

نتیجہ خیز طریقہ

Al-Risala, January 2018, pp. 34–35

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم مکہ میں آپ کے مخالفین کا ظلم بہت زیادہ بڑھ گیا تھا تو آپ کے اصحاب میں اس کے خلاف جوابی عمل کا ذہن پیدا ہوا۔ لیکن اس کے جواب میں پیغمبر نے جو طریقہ اختیار کیا، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے: قال عمر: يا رسول الله علام نخفي ديننا ونحن على الحق، ويظهر دينهم وهم على الباطل ؟ قال: يا عمر إنا قليل قدرأيت مالقينا (السيرة النبوية لابن كثير، 1/441)۔ یعنی عمر فاروق نے کہا، اے اللہ کے رسول ہم کیوں اپنے دین کو چھپائیں، حالاں کہ ہم حق پر ہیں، اور وہ اپنے دین کو ظاہر کریں حالاں کہ وہ باطل پر ہیں۔ آپ نے کہا: اے عمر ہم تھوڑے ہیں، اور تم نے دیکھا ہے جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔

اس معاملے کی اصل یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام قدیم مکہ میں اپنا مشن اس انداز میں چلا رہے تھے، جس کو لو پروفائل میں کام کرنا کہا جاتا ہے۔ قدیم مزاج کے تحت عرب کے لوگ اس طریقے سے مانوس نہ تھے۔ وہ اس کو دب کر کام کرنا سمجھتے تھے۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ ہم جب حق پر ہیں تو ہم لوگوں سے کیوں دب کر کام کریں۔

اس کے جواب میں پیغمبر اسلام نے کہا کہ ہم تھوڑے ہیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کام کرنے کا نتیجہ خیز طریقہ وہ ہے جب کہ اپنی طاقت کے مطابق کام کیا جائے۔ جوش وخروش کے تحت بڑے بڑے اقدام کرنا، دانش مند آدمی کا طریقہ نہیں۔

Printed page