تائید عام
Al-Risala, July 2018, pp. 33–36
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ الطبرانی نے یہ روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: اِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الْاِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَا هُمْ مِنْ أَهْلِهِ (المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ یعنی ضرور اللہ تعالیٰ اسلام کی مدد ان لوگوں کے ذریعے کرے گا جو دین میں سے نہ ہوں گے۔ صحیح البخاری میں یہ روایت ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی ضرور اللہ تعالیٰ اس دین کی مدد فاجر انسان کے ذریعے کرے گا۔ یہ دراصل اسلام کے حق میں ایک پیشین گوئی (prediction) ہے۔ پیشین گوئی الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ حدیث کی اکثر مشہور کتابوں میں آئی ہے۔ اس حدیث پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عالمی حالات میں ایک نیا تاریخی عمل (historical process) شروع ہوگا، جو اس حد تک پہنچے گا کہ اللہ کے دین کو عمومی اعتراف (general acceptance) کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ یہ وقت وہ ہوگا جب کہ اپنے اور غیر (we and they) کا فرق مٹ جائے گا۔ کچھ لوگ اگر مومنین ہوں گے تو بقیہ لوگ مؤيدين (supporters) بن جائیں گے۔ اس طرح اہل ایمان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ کسی بھی قسم کی حقیقی رکاوٹ کے بغیر اللہ کے دین کو سارے عالم میں پہنچائیں۔ اللہ کی کتاب کو ہر گھر میں
حالات کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دور عملاً دنیا میں آچکا ہے۔ اب اشاعت اسلام کے لیے دوسری قوموں کی طرف سے کوئی حقیقی رکاوٹ نہیں۔ اب اگر رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے تو صرف
اس وقت جب کہ مسلمان خود اپنی کسی غلطی کی بنا پر لوگوں کو غیر ضروری طور پر اپنا مخالف بنالیں ۔ ’’ ’’آبیل مجھے مار‘ کی پالیسی اختیار کر کے دوسروں کے اندر ایسا ردعمل (reaction) پیدا کریں کہ جو ان کے لیے عملاً موافق اقوام بنے ہوئے ہیں، وہ غیر ضروری طور پر ان کے مخالف بن جائیں ۔ تاریخ کے فائنل رول کا زمانہ اللہ رب العالمین کائنات کا خالق ہے۔ اس نے ایک منصوبے کے تحت انسان کو پیدا کیا۔ اس منصوبے کے تحت رب العالمین نے انسان کو یہ موقع دیا کہ وہ کامل آزادی کے ساتھ زمین (planet earth) پر آباد ہو، اور کامل آزادی کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری کرے۔ لیکن اسی کے ساتھ خالق انسانی تاریخ کو پہنچ کرتا رہا۔ مینجمنٹ کے اسی واقعے کو قرآن میں تدبیر امر (السجدة، 32:5) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
انسانی تاریخ کے بارے میں اللہ رب العالمین کا نقشہ یہ تھا کہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو اس طرح بیج کیا جائے کہ فطرت کے تمام امکانات دریافت ہو کر سامنے آجائیں۔ خالق نے یہ طریقہ اس لیے اختیار کیا کہ انسان کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) باقی رہے، اور ترقی کا عمل بھی پوری طرح جاری رہے، اور اس پر اس کے نتیجے میں فطرت میں چھپی ہوئی ٹکنالوجی دریافت ہو، جو آخر کار ایک مکمل تہذیب (civilization) کی صورت اختیار پھر انسانی تاریخ مختلف حالات سے گزرتے ہوئے یہاں تک پہنچے کہ دنیا میں کمیونی کیشن کا دور آئے، امن کا دور آئے، صنعتی تہذیب کا دور آئے، بڑے پیمانے پر انسان کی نقل وحرکت (mobility) کا دور آئے، علوم کی ترقی کا دور آئے، عالمی انٹرایکشن کا دور آئے، کامل آزادی خیال کا دور آئے، کھلے پن (openness) کا دور آئے، وہ تمام حالات پیدا ہو جائیں جب کہ وہ دعوتی پلاننگ کی جاسکے، جس کے ذریعے انسان پر کامل معنوں میں اتمام حجت کا واقعہ انجام پائے۔ وہ حقیقت ہے جس کو حدیثِ رسول میں شہادت اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کہا گیا ہے۔ اب انسانی تاریخ اکیسویں صدی کے دور میں پہنچ چکی ہے۔ اس دور میں عالمی شہادت کے
تمام موافق حالات مکمل طور پر وقوع میں آچکے ہیں۔ اب پوری طرح ممکن ہو گیا ہے کہ اس دعوتی نشانے کو عملاً ظہور میں لایا جائے ، جس کی پیشین گوئی حدیث رسول میں ان الفاظ میں کی گئی ہے : لا يَبْقَى عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ بَيْتُ مَدَرٍ، وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ كَلِمَةَ الْإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر یعنی روئے زمین پر کوئی بھی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں باقی رہے گا، مگر اللہ اس میں اسلام کے کلمے کو داخل کر دے گا۔
عالمی شہادت کا یہ تکمیلی واقعہ امت محمدی کے ذریعے انجام پانا ہے۔ اس کے مطابق امت محمدی کا آخری رول شہادتِ اعظم کی انجام دہی ہے۔ اس واقعے کی عملی صورت یہ ہے ـــ خدا کے کلام (قرآن) کا معیاری ترجمہ ہر زبان میں تیار کر کے اس کو پورے کرۂ ارض پر پھیلانا تا کہ قوموں کی اپنی قابل فہم زبان (understandable language) میں اللہ کی ہدایت ہر ایک کے پاس پہنچ جائے، اور اقامت حجت کا واقعہ پیش آجائے، ، تاکہ وہ معاملہ سامنے نہ آئے، جس کا بیان قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے : أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ (7:172) ۔ قیامت کے دن انسان عذر کریں کہ ہم کو اس کی خبر نہ تھی۔
موجودہ زمانے میں کمیونی کیشن بہت بڑی نعمت ہے، مگر اس نعمت کا اصل استعمال یہ ہے کہ اس کو اسلامی دعوت کے لیے استعمال کیا جائے۔ بدقسمتی سے جدید کمیونی کیشن کو اب تک اسی اصل کام کے لیے استعمال نہ کیا جا سکا۔ اسلامی دعوت یہ ہے کہ اسلام کے مثبت پیغام کو قومی اور سیاسی آلائشوں سے پاک کر کے خالص ربانی انداز میں پھیلایا جائے۔ جدید کمیونی کیشن نے پہلی بار اس کو ممکن بنایا ہے کہ دعوت کا کام عالمی سطح پر انجام دیا جا سکے ۔ جدید کمیونی کیشن کا اصل استعمال یہی ہے۔ کیشن کے دعوتی استعمال کے بعد، اس کے دوسرے استعمالات بھی جائز ہو سکتے ہیں۔ مگر دعوتی استعمال کے بغیر اس کے دوسرے استعمالات کا کوئی جواز نہیں۔
معیار کی تبدیلی موجودہ زمانے میں مسلمان عام طور پر منفی (negative) ہو گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اوروادھماکے میں ۔ چھپے ہوئے ہیں محاصرے کی حالت میں ہیں: