Al-Risala · July 2018

دست او معمار تقدیر امم

Al-Risala, July 2018, pp. 37–41

By Maulana Wahiduddin Khan

امیر کبیر کی بابت یہ الفاظ صد فی صد درست ہیں۔ موجودہ مسلم کشمیر زیادہ ترا میر کبیر ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ مگر امیر کبیر نے یہ کام "شمشیر و سناں" کے ذریعہ نہیں کیا، انھوں نے یہ کامیابی "شمشیر و سناں" کو ترک کر کے حاصل کی۔ امیر کبیر کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اسلام کو زندہ کرنا چاہتے ہو تو ٹکراؤ کے ذہن کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دو، مذہبی اور سیاسی جھگڑے کھڑے کرنے سے مکمل پرہیز کرو۔ اس کے بعد تم کو خدا کی نصرتیں ملیں گی اور اسلام اور مسلمانوں کو عزت و سر بلندی حاصل ہوگی۔

میر سید علی همدانی ایران کے رہنے والے اور تیمور لنگ (1405-1335ء) کے ہم عصر شاہ تیموران سے کسی بات پر ناراض ہو گیا اور ان کو ایران سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ امیر کبیر کے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ تیمور لنگ کے خلاف جہاد کا نعرہ لگائیں اور ایران میں حکومت صالحہ قائم کرنے کی جدوجہد کریں، خواہ اس کے نتیجہ میں ان کو شہید ہو جانا پڑے۔ مگر امیر کبیر

نے اس قسم کے سیاسی تصادم سے پر ہیز کیا۔ وہ اپنے چالیس ساتھیوں کو لے کر اپنے وطن ہمدان سے افغانستان ہوتے ہوئے یہ قافلہ 781 ھ میں کشمیر پہنچا۔ امیر کبیر اس سے پہلے 762 ھ میں اپنی سیاحت کے دوران کشمیر کو دیکھ چکے تھے۔

کشمیر پہنچ کر دوبارہ موقع تھا کہ یہاں سے شاہ تیمور کے خلاف سیاسی تحریک چلائی جائے۔ تیمور کے معاصرین میں ایسے لوگ تھے جو بعض سیاسی وجوہ کی بنا پر تیمور سے بغض رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ متحدہ محاذ بنا کر تیموری اقتدار کو ختم کرنے کی مہم جاری رکھ سکتے تھے، مگر امیر کبیر نے اس قسم کی کسی بھی کارروائی سے مکمل پر ہیز کیا۔ اسی طرح قیادت کا ایک اور راستہ امیر کبیر کے لیے پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ یہ اس وقت کے کشمیری مسلمانوں کی اقلیت کے معاشی اور سماجی حقوق کا مسئلہ تھا۔ اس وقت کشمیر میں اگر چہ ایک مسلم خاندان کی حکومت تھی، مگر کشمیری مسلمان، ریاست میں ایک کمزور اور غریب اقلیت کی حیثیت رکھتے تھے، حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ ان سے جبراً بت خانوں کے نذرانے وصول کیے جاتے تھے۔ امیر کبیر ان کی طرف سے حقوق طلبی کی مہم چلا کر فی الفور مسلمانوں کے قائد بن سکتے تھے، مگر امیر کبیر نے اس قسم کی ملی سیاست سے بھی کوئی سروکار نہ رکھا۔ اسی طرح امیر کبیر کے لیے ایک راستہ یہ تھا کہ وہ انسانیت کے پیامبر بن کر اٹھیں، اور ریاست کے مختلف فرقوں کو امن کے ساتھ رہنے کا وعظ سنائیں۔ ایسا کر کے وہ بہت جلد دونوں فرقوں کے درمیان ہر دل عزیزی اور مقبولیت حاصل کر سکتے تھے۔ کیوں کہ ہر وہ تحریک لوگوں کو بہت پسند آتی ہے جس میں حق و باطل کا مسئلہ چھیڑے بغیر رواداری (tolerance) اور میل جول کا اپدیش دیاگیا ہو، جس میں کوئی زداپنے اوپر پڑتی ہوئی محسوس نہ کرے ۔ مگر اس قسم کی تحریک جلسوں اور تقریروں کی سطح پر خواہ کتنی ہی کامیاب نظر آئے، عملی نتیجہ کے اعتبار سے وہ ہمیشہ بے فائدہ ثابت مزید یہ کہ اس کام کا اسلامی دعوت سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کا کام، اپنی ظاہری خوش نمائی کے باوجود، صرف مسائل دنیا کی طرف متوجہ کرنے کا کام ہے، جب کہ اسلامی دعوت کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو مسائل آخرت کی طرف متوجہ کیا جائے۔

امیر کبیر کا پروگرام نہ شاہ تیمور کے خلاف ردعمل کے طور پر بنا، اور نہ کشمیری مسلمانوں کے وقتی حالات سے متاثر ہو کر۔ اس وقت کشمیر میں ایک مسلم راجہ سلطان قطب الدین کی حکومت تھی۔ کے اندر بہت سی اعتقادی اور عملی خرابیاں موجود تھیں ۔ آپ نے سلطان کو ناصحانہ انداز کے خطوط بھیج کر اس کو اصلاحِ حال کی طرف متوجہ کیا۔ تاہم آپ نے اس کو اقتدار سے ہٹانے اور اس کی جگہ صالح حکمراں لانے کی کوئی مہم نہیں چلائی ۔ امیر کبیر نے ان تمام عوامل سے اوپر اٹھ کر سوچا اور خود اپنے مثبت فکر کے تحت اپنا پروگرام بنایا۔ پھر یہ پروگرام بھی کوئی کنونشن یا کانفرنس کا انعقاد نہ تھا۔ یہ تمام تر ایک خاموش عملی پروگرام تھا۔ وہ اور ان کے رفقا ریاست کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور پر امن طور پر یہاں کے باشندوں میں اسلام کی تبلیغ کرنے لگے۔ انھوں نے کشمیریوں کی زبان سیکھی، یہاں کے حالات سے اپنے کو ہم آہنگ کیا۔ اجنبی دیس میں اپنے لیے جگہ بنانے کی مصیبتیں اٹھائیں۔ صبر و برداشت کی ایک زندگی گزارتے ہوئے اپنے خاموش دعوتی مشن کو جاری رکھا۔ کشمیر میں اسلام کشمیر میں اسلام کا ابتدائی داخلہ اگر چہ محمد بن قاسم (96-66ھ) کے زمانہ میں ہوا۔ ریاست میں اسلام کی نمایاں اشاعت غالباً سید بلبل شاہ قلندر ترکستانی کے وقت سے شروع ہوئی۔ سات سو سال پہلے کشمیر میں ایک بودھ راجہ رنچن شاہ کی حکومت (23-1320ء) تھی ۔ یہ راجہ سید بلبل شاہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوا۔ اس زمانہ میں لوگ اپنے سرداروں کے دین پر ہوتے تھے ۔ دیکھ کر کشمیریوں کی ایک تعداد مسلمان ہوگئی۔ سید بلبل شاہ فقہی مسلک کے اعتبار سے حنفی تھے۔ اس وقت جو لوگ مسلمان ہوئے، وہ ان کے اثر سے حنفی مسلک کے مطابق عبادت کرنے لگے۔ میر سید علی ہمدانی کی تبلیغ سے جب کشمیری باشندے مسلمان ہونے لگے تو ایک مسئلہ پیدا ہو گیا، وہ یہ کہ یہ نو مسلم کس فقہی مسلک پر عبادت کریں۔ امیر کبیر خود شافعی المسلک تھے، اور اس وقت کشمیر میں جو مسلمان تھے، وہ حنفی المسلک تھے۔ امیر کبیر اگر ان نومسلموں کو اپنے فقہی مسلک کی تلقین کرتے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمانوں میں دو گروہ بن جاتے۔ ایک امیر کبیر کے ہاتھ پر اسلام لائے ہوئے

لوگوں کا، دوسرا بقیہ کشمیری مسلمانوں کا۔ حنفی اور شافعی کا یہ جھگڑا نہ صرف دونوں کے مدرسوں اور مسجدوں کو الگ کر دیتا، بلکہ اپنے اپنے فقہی مسالک کی صحت و برتری ثابت کرنے کی کوشش میں اصل تبلیغی کام پس پشت پڑ جاتا۔ کشمیری مسلمان دو جتھوں کی صورت اختیار کر کے ایک دوسرے سے لڑنا شروع کر دیتے۔ جو قوت دین حق کی اشاعت میں صرف ہوتی، وہ آپس کے جھگڑوں میں بر باد نسلیں گزر جاتیں مگر یہ اختلاف کبھی ختم نہ ہوتا۔

میر سید علی ہمدانی نے صرف اساسات دین کی تبلیغ کی۔ انھوں نے فقہی مسلک کی کوئی بحث انھوں نے یہاں تک احتیاط سے کام لیا کہ اپنا شافعی المسلک ہونا اپنے پیروؤں سے عام مسلمانوں کے ساتھ آپ خود بھی حنفی طریقہ پر نماز پڑھتے اور اپنے ساتھیوں کو بھی اسی کے مطابق عبادت کرنے کی تلقین کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیر میں ان کو کام کرنے کے مکمل ان کو ہر طبقہ کا تعاون حاصل رہا۔ غیر متعلق مسائل کے الجھاؤ سے وہ بالکل محفوظ رہے۔ اپنی دعوتی جدوجہد میں ان کو اتنی زیادہ کامیابی ہوئی کہ کشمیر دائمی طورپر مسلم اکثریت کا علاقہ بن گیا۔ امیر کبیر اگر یہاں حنفی مسلک اور شافعی مسلک کی بحثیں چھیڑتے تو ان کو یہ کامیابی نہیں ہو سکتی تھی، اور بالفرض اگر کوئی کامیابی ہوتی تو وہ بھی اس قیمت پر کہ ان کی آمد کشمیری مسلمانوں کو باہم لڑنے والے دو گروہوں میں بانٹ دینے کا سبب بن جاتی۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو لوگ اس راہ پر چلیں ان کا کسی سے اختلاف نہیں ہوگا۔ با مقصد آدمی کے ساتھ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ خود امیر کبیر کے حالات بتاتے ہیں کہ 73 سال کی عمر میں موضع پکھلی (کشمیر) کے کچھ شر پسند لوگوں نے آپ کو زہر دے دیا، اور اسی میں آپ کا انتقال ہوا۔ تاہم اس قسم کا اختلاف محض ذاتی وجوہ سے ہوتا ہے اور وہ داعی کو صرف ذاتی نقصان پہنچاتا ہے، جب کہ ایک غیر دینی مسئلے کو دینی مسئلہ بنا نا دین میں فرقہ بندی کو جنم دیتا ہے، جو اتنا بڑا جرم ہے کہ کسی گروہ سے وہ تمام نعمتیں چھن جاتی ہیں جو کتاب الہی کا حامل ہونے کی حیثیت سے اس کے لیے مقدر کی گئی تھیں۔ امیر کبیر سید علی ہمدانی کی زندگی اسلامی طریق کار کی نہایت کامیاب عملی مثال ہے۔ اپنی پر امن

دعوتی جدوجہد میں انھوں نے جس چیز کو مرکز تو جہ بنایا، وہ توحید اور آخرت کا مسئلہ تھا۔ اس کے علاوہ سیاسی مسئلے، معاشی مسئلے، فقہی مسئلے، انھوں نے بالکل نہیں چھیڑا۔ وہ اصل دین پر یکسو رہے، نہ کہ متفرق ات دین پر۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ عبادت کی ادائیگی میں آداب اور مناسک کے لحاظ کو غیر ضروری سمجھتے تھے ۔ وہ ہر ایک کی اہمیت سے بخوبی واقف تھے، اور ہر چیز کو انھوں نے بالفعل تاہم انھوں نے جس چیز کو دعوت کا عنوان بنایا، وہ متفق علیہ دین تھا، نہ کہ سُبُل متفرقہ۔ امیر کبیر فقہ کی تمام شرائط کے مطابق مکمل نماز پڑھتے تھے، مگر فقہی اختلافات کے پیچھے پڑنا، ایک مسلک کو غلط ثابت کرکے اس کی جگہ دوسرے مسلک کی ترجیح قائم کرنا، انھوں نے اپنا مشن اسی طرح معاشیات کے سلسلے میں انھوں نے ایک راستہ اختیار کیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو وہ اور ان کے ساتھی زندہ کیسے رہ سکتے تھے۔ مگر معاشی مسائل کو حل کرنے یا اس کو پوری ملت کا مشترک مسئلہ بنا کر اس کی بنیاد پر تحریک چلانے کا طریقہ انھوں نے اختیار نہیں کیا۔ سیاست کا نعرہ نہ لگانے کے باوجود ان کی ایک سیاست تھی، بلکہ نہایت گہری سیاست تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آج کشمیر کو یہ مقام نہ ملتا کہ یہاں صرف مسلم وزارت بنتی ہے، دوسری وزارت بننے کا یہاں کوئی کشمیر کو یہ سیاسی عطیہ تمام تر امیر کبیر کی دین ہے۔ اگر چہ معروف معنوں میں انھوں نے کوئی سیاسی پروگرام اپنی زندگی میں نہیں چلایا اور نہ کوئی ان کو ’’سیاسی لیڈر‘‘ کی حیثیت سے جانتا ہے —امیر کبیر ہر چیز کے پیچھے نہیں دوڑے۔ انھوں نے صرف یہ کیا کہ حقیقت کا سراپا پکڑ لیا۔ بعد تمام چیزیں خود بخود ان کی طرف چلی گئیں ۔

خواجہ نظام الدین اولیاء نے اپنی ایک مجلس میں فرمایا کہ عام لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ سیدھے کے ساتھ سیدھا اور ٹیڑھے کے ساتھ ٹیڑھا۔ لیکن ہمارے بزرگوں کا یہ کہنا ہے کہ سیدھوں کے ساتھ سیدھا اور ٹیڑھوں کے ساتھ بھی سیدھا۔ اگر کوئی شخص ہمارے سامنے کانٹا ڈالے اور ہم بھی کانٹا ڈالیں تو کانٹے ہی کانٹے ہو جائیں گے۔ اگر کسی نے کانٹا ڈالا ہے تو تم اس کے سامنے پھول ڈالو۔

Printed page