ایک دانش مندانہ اصول
Al-Risala, January 2018, pp. 35–37
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی۔ آپ کے بعد اسلام کی تاریخ میں خلافت کا دور یہ دور تقریباً 33 سال چلا۔ آخر زمانے میں مسلمانوں میں باہمی قتال شروع ہو گیا۔ اس میں لوگ بڑی تعداد میں مارے گئے۔ اس کے بعد امیر معاویہ کا دور شروع ہوا، جو خلافت پر مبنی نہ تھا، بلکہ خاندانی حکومت (dynasty) کے طریقے پر مبنی تھا۔
خلافت کا طریقہ قرآن کی آیت وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:38) کے اصول پر قائم یعنی لوگوں کے مشورے پر صاحب امر کا انتخاب۔ یہ عملاً وہی طریقہ تھا جس کو موجودہ زمانے میں جمہوریت (democracy) کہا جاتا ہے۔ امیر معاویہ خود بھی ایک صحابی رسول تھے، اس کے علاوہ اس زمانے میں بڑی تعداد میں اصحاب رسول موجود تھے۔ لیکن تمام صحابہ اس تبدیلی پر راضی صحابہ اور تابعین کے پورے دور میں اس کے خلاف بغاو ت (revolt) نہیں ہوئی ۔ حکومت کے نظام میں یہ تبدیلی اس وقت ہوئی جب کہ پیغمبر اسلام کے تربیت یافتہ اصحاب اور اصحاب کے تربیت یافتہ تابعین بڑی تعداد میں موجود تھے۔ نظام حکومت میں اس تبدیلی پر کوئی مخالفت نہیں ہوئی۔ مزید یہ کہ دور صحابہ کے بعد جو ادوار آئے، مثلاً محدثین کا دور، فقہاء کا دور، علماء کا دور، ان سب نے اس تبدیلی کو عملاً قبول کر لیا۔
یہ تبدیلی پیغمبر اسلام کی تعلیمات سے انحراف کا نتیجہ نہ تھی۔ بلکہ وہ پیغمبر کی تعلیمات کے عین پیغمبر کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اصولوں میں سے ایک اصول یہ تھا کہ جب نظری حکمت (theoretical wisdom) قابل عمل نہ ہو تو اس وقت عملی حکمت (practical wisdom) کو اختیار کر لیا جائے ۔ کیوں کہ اس طرح کے معاملے میں اصل مطلوب چیز استحکام (stability) ہے ۔ پیغمبر اسلام کے بعد جب لوگوں نے دیکھا کہ خلافت کے تحت سیاسی استحکام (political stability) حاصل نہیں ہوا، جب کہ خاندانی حکومت کے تحت سیاسی استحکام حالات کے اعتبار سے قابل عمل (workable) طریقہ ہے، تو انھوں نے یہ کیا کہ اس معاملے میں پہلے آپشن (first option) کے بجائے دوسرے آپشن (second option) کو اختیار کر لیا۔ اسی دانش مندی کا نتیجہ تھا کہ اسلام کی تاریخ اس کے بعد مستحکم انداز میں بدستور تقریبا ہزار سال تک چلتی رہی۔
جیسا کہ معلوم ہے، بعد کے زمانے میں امت کے علماء نے اس اصول پر اتفاق کر لیا کہ قائم شدہ حکومت کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ جیسا کہ امام النووی (وفات: 676ھ) کے الفاظ ہیں: وأما الخروج عليهم وقتالهم فحرام بإجماع المسلمين وإن كانوا فسقة ظالمين (شرح صحيح مسلم للنووی، 12/229)۔ اس مسئلہ میں علمائے امت کا یہ اجماع بلا شبہ نظری حکمت کی بنیاد پر نہ تھا، بلکہ وہ عملی حکمت (practical wisdom) کی بنیاد پر تھا۔ ایک اجتماعی حکمت حدیث کی کتابوں میں رسول اللہ کے زمانے کا ایک واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: أن أعرابيا بال في المسجد، فثار إليه الناس ليقعوابه، فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: دعوه، وأهريقوا على بوله ذنوبا من ماء، أو سجلا من ماء، فإنما بعثتم ميسرين ولم تبعثوا معسرين (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6128)۔ یعنی ایک دیہاتی نے مدینہ کی مسجد میں پیشاب کر دیا، لوگ اس کی طرف غصہ ہو کر اس کو پکڑنے کے لیے بڑھے، لیکن رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے کہا: اسے چھوڑ دو اور جہاں اس نے پیشاب کیا ہے اس جگہ پر پانی بھرا ہوا ایک ڈول بہادو، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، تنگی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی معاملہ میں پیغمبر اسلام کا اصول کیا تھا۔ رعایت پر مبنی تھا۔ یعنی لوگوں کے ساتھ سخت گیری کا معاملہ نہ کرنا۔ بلکہ نرمی اور رعایت کا معاملہ کرنا۔ مزید اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں اگر کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے تو اس کو وہیں کا وہیں ختم کر دیا جائے، اس کو مزید بڑھنے کا موقع نہ دیا جائے۔ اس طرح کے واقعہ میں ایسا ہوتا ہے کہ ابتدائی غلطی ہمیشہ ایک چھوٹی غلطی ہوتی ہے، لیکن اگر اس واقعہ پر شدید رد عمل ظاہر کیا جائے تو ایک چھوٹا واقعہ بڑھ کر ایک بڑا واقعہ بن جائے گا۔ حتی کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک چھوٹا واقعہ بڑھتے بڑھتے بڑے فساد کی صورت اختیار کرلے۔ اجتماعی معاملات میں اسلام کا طریقہ تیسیر کا طریقہ ہے، نہ کہ تعسیر کا طریقہ۔