Al-Risala · August 2018

ارکانِ اسلام اور حج

Al-Risala, August 2018, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

عبادت کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ ان میں سے پانچ چیزیں بنیادی عبادت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ پانچ چیزیں کیا ہیں، ان کو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: بُنِيَ الإِسْلامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 8) یعنی اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور محمد، اللہ رسول اور نماز قائم کرنا، اور زکوۃ ادا کرنا، اور حج پورا کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔ یہ گویا کہ پانچ ستون(pillars) ہیں جن کے اوپر اسلام کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ایک دکھائی دینے والی چیز ہے۔ اس حدیث میں عمارت ی ڈھانچے کو بطورِ تمثیل استعمال کرتے ہوئے اسلام کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ جس طرح ستونوں کے بغیر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوتی، اسی طرح ان پانچ ارکان کے بغیر اسلام کا قیام بھی نہیں ہوتا۔ اسلام کو قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پانچ ستونوں کو زندگی میں قائم کیا جائے۔

اسلام کے ان پانچ ارکان کی ایک اسپرٹ ہے، اور ایک اس کا فارم ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اصل اہمیت ہمیشہ اسپرٹ کی ہوتی ہے، لیکن فارم بھی یقینی طور پر ضروری ہے۔ جس طرح جسم کے بغیر روح نہیں، اسی طرح فارم کے بغیر اسلام بھی نہیں۔ اس معاملے میں بھی اسپرٹ کا اہتمام بہت ضروری ہے، لیکن یہ اہتمام فارم کے ساتھ ہوسکتا ہے، فارم کے بغیر نہیں۔ ان ارکان میں سے پہلا رکن کلمہ توحید ہے۔ اس کلمہ کا ایک فارم ہے اور اسی کے ساتھ اس کی ایک اسپرٹ ہے۔ اس کا فارم یہ ہے کہ آپ عربی کے مذکورہ الفاظ (کلمۂ شہادت) کو اپنی زبان سے ادا کریں۔ کلمہ کی اسپرٹ معرفت ہے، یعنی خدا کو دریافت کے درجے میں پالینا۔ کی وہی ادائیگی معتبر ہے جو معرفت کی بنیاد پر ہو۔ معرفت کے بغیر کلمہ پڑھنا صرف کچھ عربی الفاظ کا

تلفظ ہے، وہ حقیقی معنی میں کلمہ توحید نہیں۔

یونان کے قدیم فلسفی ارشمیدس (Archimedes) کو یہ جستجو تھی کہ کشتی پانی کے اوپر کیسے وہ اس کی تلاش میں تھا۔ ایک دن وہ پانی کے حوض میں لیٹا ہوا نہار ہا تھا۔ اچانک اس کو فطرت کے اس قانون کی دریافت ہوئی جس کو بائنسي (law of buoyancy) کہا جاتا ہے۔ اس وقت اس کے اندر اہتزاز (thrill) کی کیفیت پیدا ہوئی۔ وہ اچانک حوض سے نکلا، اور یہ کہتا ہوا بھاگا کہ: میں نے پالیا، میں نے پالیا (Eureka, Eureka)۔

اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ کلمہ کی ادائیگی کیا ہے۔ کلمہ توحید کی ادائیگی دراصل داخلی معرفت کا ایک خارجی اظہار ہے۔ یہ حکم بلاشبہ اسلام کے ارکان میں اولین اہمیت کا حامل ہے، لیکن یہ اہمیت اس کی داخلی معرفت کی بنا پر ہے، نہ کہ صرف لسانی تلفظ کی بنا پر۔ اسلام کا دوسرا رکن نماز ہے۔ دوسرے ارکان کی طرح نماز کا بھی ایک فارم ہے۔ معلوم ہے، یہ فارم قیام اور رکوع اور سجود پر مبنی ہے۔ اسی کے ساتھ نماز کی ایک اسپرٹ ہے، وہ اسپرٹ سرنڈر (surrender) ہے، یعنی اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے حوالے کر دینا۔ خدا کو کامل معنوں میں اپنا مرکزِ توجہ بنا لینا ۔ پورے معنوں میں خدا رخی زندگی (God-oriented life) اختیار کر لینا ۔ اسی اسپرٹ کا دوسرا نام قرآن میں ذکرِ کثیر (الاحزاب، 33:41) ہے، یعنی خدا کو بہت زیادہ یاد کرتے ہوئے زندگی گزارنا۔ نماز کا مقصد بھی قرآن میں ذکر بتایا گیا ہے (طٰہٰ، 20:14) ذکر کا مطلب رسمی طور پر صرف کسی قسم کی تسبیح خوانی نہیں، بلکہ ہر موقع پر سچے احساس کے ساتھ خدا کو یاد کرتے رہنا ہے۔

آدمی جب دنیا میں زندگی گزارتا ہے تو وہ مختلف قسم کے مشاہدات اور تجربات سے گزرتا اس وقت اس کے اندر وہ چیز پیدا ہونا چاہیے جس کو قرآن میں توسّم (الحجر، 75: 15) کہا گیا ہے، یعنی ہر دنیوی تجربے کو خدائی تجربے میں کنورٹ کرتے رہنا۔ ہر چیز سے ربانی غذا

Printed page