Al-Risala · August 2018

روزہ

Al-Risala, August 2018, pp. 10–17

By Maulana Wahiduddin Khan

لُغوی معنی روزہ (صوم) کے، یہ ہیں: "کسی کام سے رُک جانا، آدمی صبح اسلام کے ارکان میں سے تیسرا رکن روزہ (صوم) ہے۔ روزہ کا فارم یہ ہے کہ آدمی صبح سے شام تک کھانا اور پینا چھوڑ دے۔ وہ اپنے دن کو بھوک اور پیاس کی حالت میں گزارے۔ اسپرٹ صبر (patience) ہے۔ حدیث میں آیا ہے : هُوَ شَهْرُ الصَّبْرِ ( صحیح ابن خزیمہ، حدیث نمبر یعنی رمضان کا مہینہ صبر کا مہینہ ہے۔

صبر کیا ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی دنیا میں سلف ڈسپلن (self-discipline) کی زندگی گزارنے لگے۔ وہ اپنی خواہشوں پر روک لگائے۔ وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ وہ اپنی انا کو گھمنڈ نہ بننے دے۔ وہ لوگوں کے درمیان نو پرابلم (no problem) انسان بن کر سماجی زندگی میں جب اس کو کوئی شاک (shock) لگے تو وہ اس شاک کو اپنے اوپر سہے، وہ رہے، ناں دُوروں میں ہی رہے۔

اس کو دوسرے تک پہنچنے نہ دے۔

اسلام کا جو تھا ر کن زکوٰة س زکوه کا فارم یہ ہے کہ آدمی اپنی کمائی کے ایک حصے سے اپنی اسلام کا چوتھا رکن زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ کا فارم یہ ہے کہ آدمی اپنی کمائی کے ایک حصے سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرے، اور اپنی کمائی کا کچھ حصہ خدا کے حکم کے مطابق، وہ دوسرے انسانوں پر خرچ یہ زکوٰۃ کا فارم ہے۔ زکوٰۃ کی اسپرٹ انسان کی خیر خواہی ہے، یعنی تمام انسانوں کو اپنا سمجھنا۔ حقیقی معنوں میں انسان دوست رویہ (human-friendly behaviour) اختیار کرنا۔ لیے جینے کے بجائے، ساری انسانیت کے لیے جینا۔ آدمی اگر زکوٰۃ کی رقم دے دے، لیکن دل سے وہ ی ب ب ی، بینا،ں، دَورِحاضرکےتھِیڈز،،

انسانوں کا خیر خواہ نہ بنے تو اس کی زکوۃ ادھوری زکوۃ مانی جائے گی۔ ایسے آدمی کی زکوۃ پورے معنوں میں زکوۃ نہیں ہوگی (البقرۃ، 2:264)۔

اسلامی ارکان میں سے پانچواں رکن حج ہے۔ حج کے لفظی معنی ہیں قصد کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا۔ شرعی اصطلاح میں، حج سے مراد وہ عبادتی سفر ہے جس میں آدمی اپنے وطن سے نکل کر مکہ (عرب) جاتا ہے اور وہاں ماہِ ذو الحجہ کی مقرر تاریخوںمیں حج کے مراسم ادا کرتا ہے اور خدا کے نام پر جانور کو قربان کرتا ہے۔ یہ حج کا فارم ہے۔ حج کی اسپرٹ قربانی (sacrifice) ہے۔ حج کا فارم اور حج کی اسپرٹ دونوں جب کسی کی زندگی میں اکٹھا ہوں تو وہ حج کی عبادت کرنے والا قرار پاتا ہے۔ حج کے دوران منیٰ کے مقام پر تمام حاجی، جانور کی قربانی پیش کرتے ہیں۔ میں دنیا بھر میں مختلف مقامات پر مسلمان عیدِ اضحیٰ مناتے ہیں۔ عیدِ اضحی گویا کہ حج کی عبادت میں ایک قسم کی جزوی شرکت ہے۔ عیدِ اضحیٰ کے ذریعے تمام دنیا کے مسلمان مکہ میں کیے جانے والے حج کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: یا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الْأَضَاحِيُّ؟ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر (3127)۔ یعنی اے خدا کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں۔ آپ نے جواب دیا کہ یہ تمھارے باپ ابراہیم کی سنت ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کے زمانے میں جو قربانی دی جاتی ہے، وہ اُس طریقے پر عمل کرنے کے لیے ہوتی ہے جس کا نمونہ حضرت ابراہیم نے قائم کیا تھا۔

اس لیے حج اور قربانی کی حقیقت کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اس پہلو سے پیغمبر خدا، حضرت ابراہیم کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے۔ اس مطالعے سے نہ صرف یہ ہوگا کہ ہم کو حج اور قربانی کا تاریخی پس منظر معلوم ہوگا، بلکہ اس کی اصل حقیقت کو سمجھنا بھی ہمارے لیے ممکن ہو جائے گا۔ عیدِ اضحی میں قربانی دراصل حضرت ابراہیم کی سنت کو دوبارہ زندہ کرنے کا عہد ہے۔ اس لیے ضروری

ہے کہ حضرت ابراہیم کی زندگی کی روشنی میں قربانی کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ابراہیم 1985 ق م میں عراق کے قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ 175 سال سے زیادہ عمر پائی۔ اُر‘‘ قدیم عراق کی راجدھانی تھا۔ مزید یہ کہ یہ علاقہ قدیم آباد دنیا (میسو پوٹامیا) کا مرکز تھا۔ حضرت ابراہیم نے اپنی تمام اعلیٰ صلاحیتوں اور کامل درد مندی کے ساتھ اپنے معاصرین کو توحید کی طرف بلایا۔ اس وقت کے عراقی بادشاہ نمرود (Nimrod) تک بھی اپنی دعوت لیکن کوئی بھی شخص آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوا، حتیٰ کہ آپ جب اتمام حجت کے بعد عراق سے نکلے تو آپ کے ساتھ صرف دو انسان تھے۔ آپ کے بھتیجے اور آپ کی اہلیہ۔ حضرت ابراہیم سے پہلے، مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں خدا کے پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ لیکن ان تمام پیغمبروں کے ساتھ یکساں طور پر یہ ہوا کہ لوگ ان کا انکار کرتے رہے۔ انھوں نے پیغمبروں کا استقبال استہزا (يس، 36:30) کے ساتھ کیا۔ حضرت ابراہیم کے اوپر پیغمبر کی تاریخ کا ایک دور ختم ہو گیا۔ اب ضرورت تھی کہ دعوت الی اللہ کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ اس منصوبہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا انتخاب چنانچہ حضرت ابراہیم اپنی بیوی ہاجرہ اور چھوٹے بچے اسماعیل کے ساتھ عراق سے نکلے، اور مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے آخر کار وہاں پہنچے جہاں آج مکہ آباد ہے۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے، آپ کا یہ سفر فرشتہ جبرئیل کی رہنمائی میں طے ہوا (تاریخ الطبری، 1/254)۔ ہاجرہ پیغمبر ابراہیم کی بیوی تھیں۔ اُن سے ایک اولاد پیدا ہوئی جس کا نام اسماعیل رکھا گیا۔ ایک خدائی منصوبہ کے تحت، حضرت ابراہیم نے ہاجرہ اور اُن کے چھوٹے بچے (اسماعیل) کو عرب میں مکہ کے مقام پر لے جا کر بسا دیا جو اُس وقت بالکل غیر آباد تھا۔ اس واقعہ کے بارہ میں قرآن میں مختصر طور پر یہ حوالہ ملتا ہے :

”اور جب ابراہیم نے کہا، اے میرے رب، اس شہر کو امن والا بنا اور مجھ کو اور میری اولاد کو

اس سے دور رکھ کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔ اے میرے رب، ان بتوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ پس جس نے میری پیروی کی وہ میرا ہے، اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بخشنے والا، مہربان ہے۔ اے ہمارے رب، میں نے اپنی اولاد کو ایک بے کھیتی کی وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس بسایا ہے۔ اے ہمارے رب، تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ پس تو لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور اُن کو فروٹس (fruits) کی روزی عطا فرما، تا کہ وہ شکر کریں“ (14:35-37)۔

ہاجرہ کے بارے میں قرآن میں صرف مختصر اشارہ آیا ہے۔ تاہم حدیث کی مشہور کتاب صحیح البخاری میں ہاجرہ کے بارے میں تفصیلی روایت موجود ہے۔ یہ روایت یہاں نقل کی جاتی ہے: عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے ہاجرہ نے کمر پٹہ باندھا تا کہ سارہ کو اُن کے بارے میں خبر نہ ہو سکے۔ پھر ابراہیم، ہاجرہ اور اُن کے بچے اسماعیل کو مکہ میں لے اُس وقت ہاجرہ اسماعیل کو دودھ پلاتی تھیں۔ ابراہیم نے ان دونوں کو مسجد کے اوپری حصہ میں ایک بڑے درخت کے نیچے بٹھا دیا جہاں زمزم ہے۔ اُس وقت مکہ میں ایک شخص بھی موجود نہ تھا اور نہ ہی وہاں پانی تھا۔ ابراہیم نے کھجور کا ایک تھیلا اور پانی کی ایک مشک وہاں رکھ دیا اور خود وہاں سے روانہ ہوئے۔ ہاجرہ اُن کے پیچھے نکلیں اور کہا کہ اے ابراہیم، ہم کو اس وادی میں چھوڑ کر آپ کہاں جا رہے ہیں، جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی اور چیز۔ نے ابراہیم علیہ السلام سے یہ بات کئی بار کہی اور ابراہیم نے ہاجرہ کی بات پر کوئی دھیان نہیں ہاجرہ نے ابراہیم سے کہا کہ کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے۔ ابراہیم نے کہا کہ ہاجرہ نے کہا پھر تو اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا (إِذَنْ لَا يُضَيِّعُنَا)۔ ہاجرہ لوٹ آئیں۔ ابراہیم جانے لگے۔ یہاں تک کہ جب وہ مقام ثنیہ پر پہنچے جہاں سے وہ دکھائی نہیں دیتے تھے تو انہوں نے اپنا رخ ادھر کیا جہاں اب کعبہ ہے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی کہ: اے ہمارے رب، میں نے اپنی اولاد کو ایک ایسی وادی میں بسایا ہے جہاں کچھ نہیں اگتا،

یہاں تک کہ آپ دعا کرتے ہوئے لفظ یشکرون تک پہنچے۔

ہاجرہ اسماعیل کو دودھ پلاتیں اور مشک میں سے پانی پیتیں۔ یہاں تک کہ جب مشک کا پانی ختم ہو گیا تو وہ پیاسی ہوئیں اور ان کے بیٹے کو بھی پیاس لگی۔ انھوں نے بیٹے کی طرف دیکھا تو وہ پیاس سے بے چین تھا۔ بیٹے کی اس حالت کو دیکھ کر وہ مجبور ہو کر نکلیں۔ انھوں نے سب سے قریب پہاڑ صفا کو پایا۔ چنانچہ وہ پہاڑ پر چڑھیں اور وادی کی طرف دیکھنے لگیں کہ کوئی شخص نظر آجائے۔ وہ کسی کو نہ دیکھ سکیں۔ وہ صفا سے اتریں۔ یہاں تک کہ جب وہ وادی تک پہنچیں تو اپنے کُرتہ کا ایک حصہ اٹھایا پھر وہ تھکاوٹ سے چور انسان کی طرح دوڑیں۔ پار کر کے وہ مروہ پہاڑ پر آئیں۔ اُس پر کھڑے ہو کر انہوں نے دیکھا تو کوئی انسان نظر نہ آیا۔ اس طرح اُنہوں نے صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگائے۔ عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ ان دونوں کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ مروہ پر چڑھیں ۔ اُنہوں نے ایک آواز سنی۔ وہ اپنے آپ سے کہنے لگیں کہ چپ رہ۔ چاہا تو وہی آواز سنی۔ اُنھوں نے کہا کہ تو نے اپنی آواز مجھ کو سنا دی تو اس وقت ہماری مدد کر سکتا دیکھا تو مقام زمزم کے پاس ایک فرشتہ ہے۔ فرشتہ نے اپنی ایڑی یا پنکھ زمین پر مارا، پانی نکل آیا۔ ہاجرہ اُس کو حوض کی طرح بنانے لگیں اور ہاتھ سے اُس کے گرد مینڈ کھینچنے لگیں۔ پانی چلو سے لے کر اپنی مشک میں بھرتییں۔ وہ جس قدر پانی بھر تیں چشمہ اُتنا ہی زیادہ اُبلتا۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ہاجرہ پر رحم کرے، اگر وہ زمزم کو اپنے حال پر چھوڑ دیتیں، یا آپ نے یہ فرمایا کہ اگر وہ چلو بھر کر پانی نہ لیتیں تو زمزم ایک بہتا چشمہ ہوتا۔ ہاجرہ نے پانی پیا اور اپنے بیٹے کو پلایا۔ فرشتہ نے ہاجرہ سے کہا کہ تم ضائع ہونے کا اندیشہ نہ کرو۔ یہ اللہ کا گھر ہے۔ یہ بچہ اور اُس کے باپ دونوں اس گھر کو بنائیں گے اور اللہ اپنے گھر والوں کو ضائع نہیں کرتا۔ اُس وقت گھر (کعبہ) ٹیلے کی طرح زمین سے اونچا سیلاب آتا اور وہ اس کے دائیں بائیں جانب سے نکل جاتا۔ کچھ دنوں تک ہاجرہ نے اسی

طرح زندگی گزاری۔ یہاں تک کہ جُرہم قبیلہ کے کچھ لوگ یا جرہم کے گھر والے کداء کے راستہ سے آ رہے تھے۔ وہ مکہ کے نشیبی حصہ میں اترے۔ انھوں نے وہاں ایک پرندہ کو دیکھا جو گھوم رہا تھا۔ وہ کہنے لگے کہ یہ پرندہ تو پانی پر گھومتا ہے۔ ہم اس وادی میں رہے ہیں اور یہاں پانی نہ تھا۔ انہوں نے ایک یا دو آدمی کو خبر لینے کے لیے وہاں بھیجا۔ انہوں نے پانی وہ واپس لوٹ کر گئے اور لوگوں کو پانی کی خبر دی۔ وہ لوگ بھی آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاجرہ پانی کے پاس تھیں۔ انہوں نے ہاجرہ سے کہا کہ کیا تم ہم کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت دیتی ہو۔ ہاجرہ نے کہا کہ ہاں لیکن پانی پر تمہارا کوئی حق نہیں۔ نے کہا کہ ہاں۔ عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاجرہ خود چاہتی تھیں کہ یہاں انسان آباد ہوں۔ اُن لوگوں نے یہاں پر قیام کیا اور اپنے گھر والوں کو بھی بلا بھیجا، وہ بھی یہیں ٹھہرے ۔ جب مکہ میں کئی گھر بن گئے اور اسماعیل جوان ہو گئے اور اسماعیل نے جرہم والوں سے عربی زبان سیکھ لی۔ جرہم کے لوگ اُن سے محبت کرنے لگے تو انہوں نے اپنی ایک لڑکی سے اُن کا نکاح کر دیا۔ ہاجرہ کا انتقال ہو گیا۔ جب اسماعیل کا نکاح ہو چکا تو ابراہیم اپنی اولاد کو دیکھنے آئے۔ انہوں نے وہاں اسماعیل کو نہیں پایا۔ چنانچہ اُن کی بیوی سے اُن کے بارہ میں پوچھا۔ اُس نے کہا کہ وہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں نکلے ہیں۔ نے اُس سے اُن کے گزر بسر اور حالت کے بارہ میں پوچھا۔ اُس نے کہا کہ ہم تکلیف میں ہم بہت زیادہ تنگی میں ہیں۔ اُس نے ابراہیم سے شکایت کی۔ ابراہیم نے کہا کہ جب تمہارے شوہر آئیں تو تم اُن کو میرا سلام کہنا اور اُن سے یہ بھی کہنا کہ وہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو بدل دیں۔ جب اسماعیل آئے۔ اُنھوں نے کچھ محسوس کر لیا تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی آیا تھا۔ اُس نے کہا کہ ہاں۔ ایک بوڑھا شخص اس اس صورت کا آیا انہوں نے آپ کے بارہ میں پوچھا، میں نے اُن کو بتایا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ہماری گزر کیسے ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ بڑی تکلیف اور تنگی سے۔ اسماعیل نے کہا کہ کیا

انہوں نے تم سے اور کچھ کہا ہے۔ اُس نے کہا کہ ہاں۔ اُنھوں نے مجھ سے آپ کو سلام کہا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو بدل دو۔ اسماعیل نے کہا کہ وہ میرے باپ انھوں نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں تم کو چھوڑ دوں۔ تم اپنے گھر والوں میں چلی جاؤ۔ اسماعیل نے اُس کو طلاق دے دی۔ اور جہنم کی ایک دوسری عورت سے انہوں نے نکاح ابراہیم اپنے ملک میں ٹھہرے رہے جس قدر اللہ نے چاہا۔ اس کے بعد ابراہیم اسماعیل کے یہاں آئے تو پھر اُن کو نہیں پایا۔ وہ اسماعیل کی بیوی کے پاس آئے اور اُس سے اسماعیل کے بارہ میں پوچھا۔ اُس نے کہا کہ وہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں نکلے ہیں۔ ابراہیم نے کہا کہ تم لوگ کیسے ہو۔ اس نے کہا کہ ہم لوگ خیریت سے ہیں اور کشادگی کی حالت میں ہیں۔ اُس نے اللہ عزوجل کی تعریف کی۔ ابراہیم نے کہا کہ تمہارا کھانا کیا ہے۔ اُس نے کہا کہ گوشت۔ ابراہیم نے کہا کہ تم کیا پیتے ہو۔ اُس نے کہا کہ پانی۔ دعا کی کہ اے اللہ تو ان کے گوشت اور پانی میں برکت دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُس وقت مکہ میں اناج نہ تھا۔ اور اگر وہاں اناج ہوتا تو ابراہیم اس میں بھی برکت کی دعا مکہ کے علاوہ کسی دوسرے ملک کے لوگ اگر گوشت اور پانی پر گزر کریں تو وہ اُن کو موافق نہ آئے۔ ابراہیم نے کہا کہ جب تمہارے شوہر آئیں تو تم اُن کو میرا سلام کہنا اور میری طرف سے اُن کو یہ حکم دینا کہ وہ اپنے دروازے کی چوکھٹ کو باقی رکھیں۔ پس جب اسماعیل آئے تو انہوں نے کہا کہ کیا تمہارے پاس کوئی شخص آیا تھا۔ اُس نے کہا کہ ہاں، ہمارے پاس ایک اچھی صورت کے بزرگ آئے تھے اور اُس نے آنے والے کی تعریف کی۔ نے مجھ سے آپ کے بارہ میں پوچھا تو میں نے اُنہیں بتایا۔ انہوں نے مجھ سے دوبارہ ہمارے گزر بسر کے بارہ میں پوچھا۔ میں نے اُنھیں بتایا کہ ہم خیریت سے ہیں۔ اسماعیل نے کہا کہ کیا انھوں نے تم سے کچھ اور بھی کہا ہے۔ اُس نے کہا کہ ہاں۔ اُنھوں نے آپ کو سلام کہا ہے اور آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ اپنے دروازہ کی چوکھٹ کو باقی رکھیں۔ اسماعیل نے کہا کہ وہ

میرے باپ تھے اور تم چوکھٹ ہو۔ انھوں نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اپنے پاس باقی پھر ابراہیم اپنے ملک میں ٹھہرے رہے جب تک اللہ نے چاہا۔ اس کے بعد وہ آئے اور اسماعیل زمزم سے قریب ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے اپنے تیر درست کر رہے جب اسماعیل نے ابراہیم کو دیکھا تو وہ کھڑے ہو گئے۔ پس انھوں نے وہی کیا جو ایک باپ اپنے بیٹے سے اور ایک بیٹا اپنے باپ سے کرتا ہے۔ ابراہیم نے کہا کہ اے اسماعیل، اللہ نے مجھ کو ایک حکم دیا ہے۔ اسماعیل نے کہا کہ پھر جو آپ کے رب نے حکم دیا ہے اُسے ابراہیم نے کہا کہ کیا تم میری مدد کرو گے۔ اسماعیل نے کہا کہ میں آپ کی مدد ابراہیم نے کہا کہ اللہ نے مجھ کو یہ حکم دیا ہے کہ میں یہاں ایک گھر بناؤں اور ابراہیم نے اس کے گرد ایک بلند ٹیلہ کی طرف اشارہ کیا۔ اُس وقت اُن دونوں نے گھر کی بنیاد اسماعیل پتھر لاتے تھے اور ابراہیم تعمیر کرتے تھے، یہاں تک کہ جب دیوار اونچی ہوگئی تو اسماعیل یہ پتھر (حجر اسود) لائے اور اُس کو وہاں رکھ دیا۔ ابراہیم اُس پتھر پر کھڑے ہو کر تعمیر کرتے تھے اور اسماعیل اُن کو پتھر دیتے تھے۔ اور وہ دونوں کہتے تھے: اے ہمارے رب، تو ہماری طرف سے یہ قبول کر، بیشک تو بہت زیادہ سننے والا اور بہت زیادہ جاننے والا پس وہ دونوں تعمیر کرتے اور اس گھر کے ارد گرد یہ کہتے ہوئے چکر لگاتے کہ اے ہمارے رب، تو ہماری طرف سے یہ قبول کر۔ بیشک تو بہت زیادہ سننے والا اور بہت زیادہ جاننے والا ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3364)

Printed page