Al-Risala · January 2018

پیغمبر اسلام، پیغمبر حکمت

Al-Risala, January 2018, pp. 37–39

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں پیغمبر اسلام کے بارے میں متعدد آیتوں میں یہ بات کہی گئی ہے کہ آپ کا ایک کام یہ تھا کہ آپ انسان کو خدا کی کتاب پہنچائیں۔ آپ کا دوسرا کام یہ تھا کہ آپ لوگوں کو حکمت کی تعلیم یہ دونوں کام ایک دوسرے سے الگ بھی تھے، اور ایک دوسرے سے متعلق بھی۔

حکمت کا لفظی مطلب ہے وزڈم (wisdom)۔ زندگی کے معاملات کو درست طور پر انجام دینے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت جس چیز کی ہے، وہ وزڈم ہے۔ وزڈم ہو تو آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ درست منصوبہ بنائے، اور وزڈم نہ ہو تو وہ غلط منصوبہ بنائے گا، جو مسئلہ کو بڑھانے والا ہوگا، نہ کہ مسئلہ کو حل کرنے والا۔

انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے اکثر حالات کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ متاثر ذہن سے سوچنے کی بنا پر صحیح فیصلہ نہیں لے پاتا۔ جہاں انتظار کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، وہاں وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار جہاں پر امن تدبیر کے ذریعہ مسئلہ حل کرنا چاہیے، وہاں وہ تشدد کا طریقہ اختیار کر لیتا ہے۔

جہاں ردعمل (reaction) سے بچ کر اپنا منصوبہ بنانا چاہیے، وہاں وہ ردعمل (reaction) کا شکار ہو کر ایسا منصوبہ بناتا ہے جو مسائل میں صرف اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس طرح کے مواقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے پاس دانش مندی کا اصول ہو۔ پاس ایک ایسا رہنما اصول ہو، جو اس کو ہر موقع پر درست راستے کی طرف رہنمائی کرتا رہے۔ اسی کا نام حکمت (wisdom) ہے، اور اسی حکمت کے اصول کو بتانا، پیغمبر کا سب سے زیادہ اہم کام ہے۔ فرشتے کی حمایت ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: بینما رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس ومعه أصحابه وقع رجل بأبي بكر، فآذاه، فصمت عنه أبو بكر ثم آذاه الثانية، فصمت عنه أبو بكر، ثم آذاه الثالثة، فانتصر منه أبو بكر، فقام رسول الله حين انتصر أبو بكر، فقال أبو بكر: بکر:أوجدت علي يا رسول الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نزل ملك من السماء يكذبه بما قال لك، فلما انتصرت وقع الشيطان، فلم أكن لأجلس إذ وقع الشيطان (سنن ابو داؤد، حديث نمبر 4896)۔ یعنی رسول اللہ ایک بار اپنے اصحاب کے ساتھ تھے کہ ایک شخص نے ابو بکر صدیق کو برا بھلا کہا اور ان کو تکلیف پہنچائی، ابو بکر صدیق خاموش رہے، اس نے پھر دوسری بار ابو بکر صدیق کو اسی طرح تکلیف دی، ابو بکر صدیق پھر بھی ان کے بارے میں خاموش رہے، اس نے تیسری بار بھی تکلیف پہنچائی تو ابو بکر صدیق نے اسے جواب میں کچھ کہہ دیا۔ ابو بکر صدیق نے جواب دیا تو رسول اللہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ دیکھ کر ابو بکر صدیق نے کہا یا رسول اللہ، کیا آپ مجھ پر ناراض ہیں؟ رسول اللہ نے کہا کہ آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا وہ اس تکلیف پہنچانے والی کی تکذیب کرتا رہا، لیکن جب تم نے اسے جواب دے دیا تو شیطان آگیا، اور جب شیطان آجائے تو میں بیٹھنے والا نہیں۔

اس حدیث میں بظاہر ایک فرد کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک عام واقعہ ہے۔ اس کا تعلق انفرادی معاملات سے بھی ہے، اور اجتماعی معاملات سے بھی۔

فطرت کا ایک قانون ہے کہ جب کوئی شخص مظلوم ہو، اور اپنی طرف سے کوئی کارروائی نہ کرے تو فرشتہ اس کی طرف سے کارروائی کرنے کے لیے آجاتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس، جب انسان اپنے معاملے کو خود اپنا معاملہ بنا کر جوابی کارروائی کرنا شروع کر دے تو وہ اکیلا ہو جاتا ہے۔ کا ساتھی فرشتہ ہو، وہ بلاشبہ سب سے زیادہ طاقت ور انسان ہے، اور جو آدمی اپنے معاملے کو خود اپنے ہاتھ میں لے لے تو اس وقت وہ ایک عام انسان بن جاتا ہے۔ اس کے بعد کچھ نہیں معلوم کہ وہ جیتے گا، یا فریق ثانی کے مقابلے میں ہار جائے گا۔ ایسی حالت میں وزڈم کیا ہے۔ وہ یہی ہے کہ آدمی خود کو طاقتور بنائے، کمزور نہ بنائے۔

Printed page