Al-Risala · August 2018

To give ourselves to you

Al-Risala, August 2018, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ نوجوانوں نے اپنی قربانی کا علامتی اظہار 25 ہزار پیسوں کی شکل میں کیا۔ پیسے خود اصل قربانی نہیں تھے ۔ وہ اصل قربانی کی صرف ایک علامت (token) تھے۔ جانور کی قربانی کا ہے۔ قربانی کے عمل میں جانور کی حیثیت صرف علامتی ہے۔ جانور کی قربانی کے ذریعے ایک مومن علامتی طور پر اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اسی طرح اپنی زندگی کو خدا کی راہ میں پوری طرح لگا دے گا۔ اسی لیے قربانی کے وقت یہ کہا جاتا ہے : اَللّٰهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ ( سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2795)۔ یعنی اے خدا یہ تو نے ہی دیا تھا ، اب میں اس کو تیرے سپر د کرتا ہوں ۔ حج کا اثر یہ ہونا چاہیے کہ حاجی کا ذہن خدا رخی ذہن ہو جائے ۔ اس کو خدا کی یاد آنے لگے۔ اس کا دماغ خدا کی باتوں سے بھر جائے ۔ اب تک اس کی سوچ اگر اپنی ذات کی طرف چل رہی تھی تو اب اس کی سوچ خدا کی طرف چل پڑے۔

Printed page