اصحابِ رسول
Al-Risala, August 2018, pp. 23–25
By Maulana Wahiduddin Khan
چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم عراق کے قدیم شہر اُر (Ur) میں پیدا ہوئے۔ نے اپنی معاصر قوم کے درمیان اپنا دعوتی مشن جاری کیا۔ لیکن آپ کی قوم کی کنڈیشننگ اتنی زیادہ پختہ ہو چکی تھی کہ وہ آپ کے پیغام کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے ایک نیا منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبے کا آغاز اس طرح ہوا کہ آپ اپنی اہلیہ ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں لے گئے اور وہاں اُنھیں اس غیر آباد ماحول میں بسا دیا۔
اس خصوصی منصوبے کے ذریعے عرب میں ایک نئی نسل پیدا ہوئی۔ اسی نسل میں 570 عیسوی میں پیغمبرِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اسی نسل میں سے وہ لوگ پیدا ہوئے جن کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اصحابِ رسول در اصل پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے معاصر اہلِ ایمان اصحابِ رسول کو قرآن میں خیر امت (آلِ عمران، 3:110) کہا گیا ہے۔ امتیازی اوصاف کے حامل تھے۔ ان کی صفتیں قرآن میں مختلف مقامات پر آئی ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہاں نقل کی جاتی ہے :
مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلاً مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَاناً سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا یعنی محمد، اللہ کے رسول ہیں۔ جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں، وہ منکروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ تم ان کو رکوع میں اور سجدہ میں دیکھو گے۔ وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی نشانی ان کے چہروں پر ہے، سجدہ کے اثر سے۔ ان کی یہ مثال
تورات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی ، اُس نے اپنا انکھوا نکالا ، پھر اس کو مضبوط کیا ، پھر وہ موٹا ہوا اور پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا ۔ وہ کسانوں کو بھلا لگتا ہے، تا کہ اُن سے منکروں کو جلائے۔ اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اللہ نے اُن کے لیے معافی کا اور بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔
قرآن کی اس آیت میں اصحابِ رسول کے امتیازی اوصاف کو دو تاریخی پیشین گوئیوں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک پیشین گوئی وہ جو تورات میں آئی ہے، اور دوسری پیشین گوئی وہ ہے جس کا ذکر انجیل میں موجود ہے۔ تورات میں اصحابِ رسول کا پیشگی ذکر ان الفاظ میں آیا ہے کہ وہ دس ہزار قدسیوں کے ساتھ آیا:
He came with ten thousands of saints (Deuteronomy 33:2)
بائبل کے اِس حوالے کے مطابق، اصحابِ رسول قدسی کردار (saintly character) کے حامل تھے۔ اصحابِ رسول کی یہ قدسی صفات مذکورہ قرآنی آیت کے مطابق، حسب ذیل ہیں: ان صفات میں پہلی صفت وہ ہے جس کی طرف ”معہ“ کے لفظ میں اشارہ کیا گیا ہے، یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے والے۔ یہ ساتھ انھوں نے کب دیا تھا۔ انھوں نے پیغمبر اسلام کا یہ ساتھ اُس وقت دیا تھا، جب کہ آپ کی ذات کے ساتھ ابھی تاریخی عظمت جمع نہیں ہوئی تھی۔ پیغمبر اسلام کو خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پہچانا، انھوں نے بظاہر ایک معمولی شخصیت کو غیر معمولی شخصیت کے روپ میں دریافت کیا، انھوں نے تاریخی اعتراف (historical recognition) کے درجے تک پہنچنے سے پہلے آپ کی حیثیت کا اعتراف کیا۔ انھوں نے دورِ عظمت سے پہلے پیغمبر کو اس وقت پہچانا، جب کہ اُس کی ذات ہر قسم کی ظاہری عظمت سے پوری طرح خالی تھی۔ انھوں نے محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب کو خدا کے نمائندہ کی حیثیت سے دریافت کرکے اُس کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرینڈر کر دیا، اصحابِ رسول نے ساعتِ عُسرت (التوبة، 117)
مُسْتَحکم مملکتِ پاکستان کے معمار کابلستان کے پیغَمْبَرِ اِسلاَم کا ساتھ دِیا۔ یہ ساتھ دینا اُسی وقت مُمکِن تھا، جب کہ اَصحابِ رسول مذکورہ امتیازِی صفت کے حامل ہوں۔