رحماء بینھم
Al-Risala, August 2018, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
کے تحت ایک دفعہ پھر "سول سوسائٹی" کے افراد میدان میں آگئے اصحابِ رسول کی تیسری صفت کو قرآن میں "رحماء بینہم" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی آپس میں ایک دوسرے کے لیے آخری حد تک ہمدرد اور خیر خواہ ہونا۔ اس صفت کی غیر معمولی اہمیت اُس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ اصحابِ رسول کے درمیان وہ تمام اختلافات (differences) موجود تھے جو ہر انسانی گروہ کے درمیان فطری طور پر پائے جاتے ہیں۔ اِس کے باوجود وہ بنیانِ مرصوص (الصف ، 4 : کی طرح باہم متحد رہے، انھوں نے اِس صلاحیت کا ثبوت دیا کہ وہ اختلاف کے باوجود آپس میں متحد ہو سکتے ہیں، وہ شکایتوں کے باوجود ایک دوسرے کے خیر خواہ بن سکتے ہیں، وہ منفی اسباب کے باوجود اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ اصحابِ رسول کی یہی صفت تھی جس کی بنا پر وہ توحید پر مبنی وہ انقلاب لا سکے جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔