تراھم ركعا سجداً
Al-Risala, August 2018, pp. 25–26
By Maulana Wahiduddin Khan
اصحابِ رسول کی چوتھی صفت کو ’’تراھم رکعاً سجداً" کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ کتابوں کی دنیا ابراہیم رسما مساجد کے احکام میں کیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اصحاب رسل کامل طور پر اللہ کے آگے جھکے ہوئے تھے، ان کے اندر کامل درجے میں خود سپردگی کا مزاج پیدا ہوگیا تھا، اللہ کی کبریائی کی معرفت ان کو اتنے بڑے درجے میں حاصل ہوئی تھی، جب کہ انسان شعوری طور پر اللہ کی قدرتِ کاملہ کا ادراک کر لیتا ہے اور اس کے اندر اپنے عاجز و مطلق ہونے کا شعور اس طرح پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ اللہ کے آگے جھک جاتا ہے۔ اس کے دل و دماغ میں اللہ کی بڑائی کے سوا کوئی اور بڑائی باقی نہیں رہتی، اس کا واحد کَنْسَرْن (sole concern) اللہ وحدہ لاشریک بن جاتا ہے۔ یہی توحیدِ کامل ہے، اور اصحاب رسول اس توحیدِ کامل میں آخری درجے پر پہنچے ہوئے تھے۔