يعجب الزراع
Al-Risala, August 2018, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
"یعجب الزراع" کے لفظ میں ایک تاریخی پس منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اصحابِ رسول کے پہلے کی جودعوتی تاریخ ہے، اُس میں بار بار ایسا ہوا کہ خدا کے داعیوں نے دعوت کا بیج ڈالا، لیکن وہ بڑھ کر ایک شاداب درخت نہ بن سکا ۔ یہ واقعہ پہلی بار اصحاب رسول کے ذریعے پیش دعوت کے عمل میں یہ ارتقا سارے زمین و آسمان کے لیے بے پناہ مسرت کا باعث تھا، جودعوت توحید کو ایک شاداب باغ کی صورت میں دیکھنے کے لیے ہزاروں سال سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔ ليغيظ بهم الكفار "لیغیظ بهم الكفار" کا مطلب یہ ہے کہ وہ اہلِ باطل جو حق کا فروغ دیکھنا نہیں چاہتے تھے، اُن کے لیے حق کے فروغ کا یہ عظیم واقعہ بے پناہ مایوسی کا سبب بن گیا۔ ان کی ہزاروں سال کی خوشیاں خاک میں مل کر رہ گئیں ۔ ان کا یہ حوصلہ آخری طور پر ختم ہو گیا کہ وہ حق کو ہمیشہ مغلوب رکھیں گے اور اس کو کبھی ابھرنے کا موقع نہ دیں گے ۔ اس مایوسی میں دونوں گروہ یکساں طور پر شریک تھے، باطل پرست انسان بھی، اور ابلیس کا دشمن حق قافلہ بھی، حق کی یہ کامیابی دونوں ہی کے لیے ان کے منصوبوں کے خاتمہ کے ہم معنی بن گئی۔