سب سے زیادہ کامیاب طریقہ
Al-Risala, January 2018, pp. 39–40
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام کو قرآن میں جو حکمت کی باتیں بتائی گئی ہیں، ان میں سے ایک حکمت وہ ہے جو پیغمبر یوسف کے حوالے سے قرآن میں آئی ہے۔ پیغمبر یوسف کنعان میں پیدا ہوئے، جو اب الخلیل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا زمانہ بقول اغلب 1910 تا 1800 ق م کا ہے۔ ان کے ساتھ کچھ خاندانی اسباب پیدا ہوئے، اور وہ فلسطین سے نکل کر مصر پہنچ گئے۔ اس زمانے کا مصر کا بادشاہ ان سے متاثر ہوا، اور اس نے آپ کو اپنی سلطنت میں پورے ملک کی زراعت کا انچارج بنا دیا۔ پیغمبر یوسف ایک گاؤں سے نکل کر مصر پہنچے تھے۔ ان کو یہ غیر معمولی کامیابی کیسے حاصل اس کا راز یہ تھا کہ انھوں نے اس وقت کے بادشاہ مصر سے ٹکراؤ نہیں کیا، بلکہ ایسا طریقہ اختیار کیا، جس کو پولیٹیکل ایڈ جسٹمنٹ کہا جا سکتا ہے۔ وہ پولیٹیکل ایڈ جسٹمنٹ یہ تھا کہ پیغمبر یوسف اس پر راضی ہو گئے کہ حکومت کے تخت پر بادشاہ بدستور قائم رہے، لیکن ملک کے خزائن (زرعی نظام) پیغمبر یوسف کے ہاتھ میں ہو۔
یہ قصہ قرآن اور بائبل، دونوں میں آیا ہے۔ بائبل (پیدائش، 41:40) میں اس کا ذکر ان الفاظ میں ہے: سو تو میرے گھر کا مختار ہوگا، اور میری ساری رعایا تیرے حکم پر چلے گی ۔ فقط تخت کا مالک ہونے کے سبب سے میں بزرگ ترہوں گا:
Only as regards the throne will I be greater than you.
پیغمبر یوسف کے قصے کو قرآن میں احسن القصص یعنی بہترین طریق کار (best method) قرار دیا گیا ہے۔ یہ بہترین طریق کار کیا تھا، جس نے پیغمبر یوسف کو قدیم مصر میں اعلیٰ مواقع عطا وہ طریق کار ایک لفظ میں یہ تھا— سیاسی اقتدار کے ساتھ پولیٹیکل اپوزیشن کے بجائے پولیٹیکل ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کرنا۔ یہ طریقہ جو پیغمبر یوسف نے اختیار کیا، وہ قدیم زمانے میں بھی سب سے زیادہ کامیاب طریقہ تھا، اور موجودہ زمانے میں بھی وہ سب سے زیادہ کامیاب طریقہ ہے۔ دانش مندانہ پالیسی پیغمبر اسلام نے ایک حکیمانہ نصیحت ان الفاظ میں کی ہے : لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه، قالوا: وكيف يذل نفسه؟ قال: يتعرض من البلاء لما لا يطيق (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2254)۔ یعنی کسی مومن کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ پوچھا: کوئی شخص اپنے آپ کو کس طرح ذلیل کرتا ہے۔ آپ نے کہا: ایسے امر مشکل کا وہ سامنا کرے جس سے نمٹنے کی اس میں طاقت نہ ہو۔
زندگی میں ایسے مواقع پیش آتے ہیں، جب کہ آدمی کا سامنا ایسی صورت حال کے ساتھ ہوتا، جس کے بارے میں پیشگی طور پر یہ معلوم رہتا ہے کہ اگر اس کا سامنا کیا گیا تو اس کا نتیجہ یک طرفہ طور پر آدمی کی اپنی تباہی کی صورت میں ہوگا۔ اس طرح کا ٹکراؤ جو یک طرفہ طور پر آدمی کی ناکامی کا سبب بنے، وہ پیغمبر اسلام کے طریق کار کے عین خلاف ہے۔ پیغمبر اسلام کا طریق کار یہ ہے کہ آدمی غیر نزاعی انداز (non-confrontational method) اختیار کرتے ہوئے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ نزاعی طریقہ (confrontational method) کو اختیار کرنا پیغمبر اسلام کی سنت کے سراسر خلاف ہے۔ غیر نزاعی طریق کار آدمی کے لیے ہمیشہ نتیجہ خیز ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، نزاعی طریق کار ہمیشہ آدمی کے لیے برعکس نتیجہ (counter productive) ثابت ہوتا ہے۔