حج کی معنویت
Al-Risala, August 2018, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ لوگ مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے دعا کیجیے، ہم نے بائیسکل کے ذریعہ حج کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ اس سے پہلے بھی حاجیوں کا کئی گروپ مجھ سے ملا ہے، جو اسی قسم کی باتیں کرتا تھا۔ مثلاً کوئی بتاتا تھا کہ ہم اونٹ کے ذریعے حج کا سفر کرنے جا رہے ہیں، کوئی بتاتا تھا کہ ہم پیدل حج کا سفر کرنے جا رہے ہیں، وغیرہ۔ یہ لوگ حج کی صورت (form) کو جانتے ہیں، مگر وہ حج کی معنویت کو نہیں جانتے۔ قرآن میں آیا ہے کہ حج کے لیے سفر کرو، اور اس کے منافع (الحج، 22:28) کو حاصل کرو۔ منافع کا لفظی مطلب ہے فائدہ (benefit)۔ لیکن اس کا مطلب مادی فائدہ نہیں ہے، بلکہ معنوی فائدہ ہے۔ یعنی حج سے حکمت (wisdom) کا سبق حاصل کرو، حج سے زندگی کی حکمتیں دریافت کرو، حج کی عبادت پر غور کر کے اس سے راز حیات کو جانو۔ مثلاً آپ حج کے لیے مکہ جائیں اور کعبہ کا طواف کرتے ہوئے آپ دیکھیں کہ کعبہ کی ابراہیمی عمارت اب وہاں موجود نہیں ہے۔ پیغمبر ابراہیم نے کعبہ کو لمبی صورت میں بنایا تھا، جب کہ موجودہ کعبہ چوکور صورت میں ہے، جو کہ قدیم مکہ کے لوگوں نے بطور خود تعمیر کیا تھا۔ قدیم کعبہ کی تقریبا ایک تہائی جگہ حطیم کی صورت میں غیر مسقف پڑی ہوئی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے اسی کعبہ کا طواف کیا۔ انھوں نے کعبہ کو دوبارہ ابراہیمی صورت میں بنانے کی کوشش نہیں کی۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ پیغمبر اسلام کی ایک سنت وہ ہے جس کو اسٹیٹس کوازم کہا جاسکتا ہے۔ یعنی موجود حالت پر تعمیر نو کی کوشش کرنا۔ گویا کہ موجود حالت کو بدلنے کی تحریک چلانا، سنتِ رسول بلکہ سنتِ رسول یہ ہے کہ موجود حالت کو چھیڑے بغیر نئی تعمیر کا منصوبہ بنایا جائے۔ زمانے کی مسلم تحریکیں سب کی سب اس کی خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ ہر تحریک کے لیڈر یہ چاہتے ہیں کہ پہلے حالت موجودہ (statusquo) کو بدلیں، اس کے بعد اپنے منصوبہ کے مطابق تعمیر نو کا کام کریں، یہ طریقہ بلاشبہ سنتِ رسول کے خلاف ہے۔
اصل یہ ہے کہ ملت کی تعمیر نو کا کام مکمل معنوں میں ایک مثبت کام ہے۔ جب آپ دیکھیں کہ صورت موجودہ یہ ہے کہ ملت کے معاملات پر عملاً کسی گروہ کا قبضہ قائم ہے تو ایسی حالت میں تعمیر نو کا منصوبہ کامیاب طور پر صرف اس وقت کیا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو غیر نزاعی منصوبہ کی بنیاد پر انجام دیا جائے۔ اگر نئے قائدین یہ چاہیں کہ پہلے قابض گروہ سے لڑ کر اس کو ہٹائیں، وہ پہلے اسٹیٹس کو کو بدلیں، اور اس کے بعد نئی تعمیر کا آغاز کریں تو ایسا منصوبہ ہمیشہ ٹکراؤ سے شروع ہوگا۔ منصوبہ کا آغاز تخریب سے شروع ہوگا، نہ کہ تعمیر سے ۔ چنانچہ ایسا منصوبہ اپنے آغاز ہی میں نزاعی (controversial) بن جائے گا۔ لوگوں کی طاقت غیر ضروری قسم کے ٹکراؤ پر چلنے لگے گی۔ اس کے برعکس، اگر اسٹیٹس کو کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا کام شروع کر دیا جائے تو نزاع کی نوبت نہیں آئے گی، بلکہ تعمیر کا کام اول دن سے تعمیر کے اصول پر جاری ہو جائے گا۔ اب ایک لمحہ بھی تخریب میں ضائع نہیں ہوگا۔
مکہ عرب کا مرکزی شہر تھا۔ قریش نے مکہ میں دار الندوہ قائم کر رکھا تھا۔ دار الندوہ گویا قبائلی یہاں تمام اہم امور کے فیصلے کیے جاتے تھے۔ پیغمبر اسلام کے دادا عبد المطلب دار الندوہ کے ممتاز ممبروں میں سے ایک تھے۔ عام رواج کے مطابق، ایک حوصلہ مند لیڈر کے لیے پہلا ٹارگیٹ یہ تھا کہ وہ دار الندوہ کا رکن بننے کی کوشش کرے۔ جو گویا اُس وقت کے عرب میں سیاسی طاقت کے مرکز کی حیثیت رکھتا لیکن پیغمبر اسلام نے دار الندوہ میں داخلے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ حتیٰ کہ انہوں نے یہ مطالبہ بھی نہیں کیا کہ اپنے دادا عبد المطلب کی خالی سیٹ اُنہیں دی جائے۔ دار الندوہ کے معاملے میں پیغمبر اسلام نے وہ پُرامن طریقہ اختیار کیا جس کو اسٹیٹس کو ازم کہا جاتا ہے۔ یعنی صورت موجودہ سے ٹکراؤ نہ کرنا، بلکہ جو صورت موجودہ ہے اس کو علی حالہ قبول کر لینا۔ مگر پیغمبر اسلام کا اسٹیٹس کو ازم سادہ طور پر صرف اسٹیٹس کو ازم نہ تھا بلکہ وہ مثبت اسٹیٹس کو ازم (positive status quoism) تھا۔ یعنی وقت کے نظام سے ٹکراؤ کیے بغیر موجود مواقع کو دریافت کرکے اُسے استعمال کریں۔ اس طریق کار کو فارمولا کی زبان میں اس طرح کہا جاسکتا ہے: Ignore the problems, avail the opportunities.