مستقبل پر نظر
Al-Risala, January 2018, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام پر پہلی وحی 610 عیسوی میں آئی ہے۔ اس وقت آپ مکہ سے 2 میل کے فاصلے پر تنہا غارِ حرا میں تھے۔ اس وقت اللہ کی طرف سے فرشتہ جبریل آپ کے پاس آیا۔ فرشتہ نے پیغمبر اسلام سے کہا: اقرأ (اے محمد پڑھو)، آپ نے اس کے جواب میں کہا: ما أنا بقاری (میں پڑھنا نہیں جانتا)، اس کے بعد جبریل نے آپ کو پکڑا، اور زور سے اپنے سینے سے لگایا۔ دوبارہ پڑھنے کے لیے کہا، پیغمبر اسلام نے دوبارہ وہی جواب دیا۔ یہ عمل تین بار ہوا۔ بعد جبریل نے آپ کو سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیتیں پڑھائیں، اور آپ نے جبریل کے بولے ہوئے کلام کو دہرایا۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر (3)
اس واقعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کے اس پہلے تجربے میں آپ کو ایک عظیم سبق دیا گیا۔ وہ یہ کہ اپنے سفر میں حال کو نہ دیکھو، بلکہ مستقبل کو دیکھو، اپنے بالفعل (actual) کو نہ دیکھو بلکہ اپنے بالقوة (potential) کو دیکھو، زندگی میں یہ نہ دیکھو کہ کیا ہے بلکہ یہ دیکھو کہ کیا ہوسکتا ہے، زندگی میں کبھی یہ نہ سمجھو کہ فل اسٹاپ (-) آ گیا بلکہ ہمیشہ یہ یقین رکھو کہ زندگی میں کبھی کاما ختم نہیں ہوگا، زندگی میں کبھی مایوس نہ ہو بلکہ ہمیشہ اپنے آپ کو پر امید بنائے رہو۔ اسلام کی زندگی کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو اقرأ کا یہ پہلا تجربہ آپ کی پوری زندگی میں کارفرما دکھائی دے گا۔